$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

کے لیے یمنی حلہ،طائف شریف کا شہد،آبِ زمزم اور خاک شفا محفوظ رکھی تھی اور فرمایا تھا کہ نزع کے وقت یہ شہد،پانی اور خاک شفا ملاکر میرے منہ میں ٹپکایا جائے اور اس حلہ یمنی میں مجھے کفن دیاجائے،یہ اسی حدیث پرعمل تھا۔الحمدﷲ!کہ فقیر اس وقت حاضر تھا بلکہ حضرت کو غسل میں نے دیا۔

1642 -[9]وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ

اور ترمذی اور ابن ماجہ نے ابو امامہ سے روایت کی۔

 

1643 -[10]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ ينْزع عَنْهُم الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ وَأَنْ يُدْفَنُوا بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نےشہدائے احد کے متعلق حکم دیا کہ ان سے لوہا و پوستینیں اتار لی جائیں اور اپنے خونوں اورکپڑوں میں دفن کردیئے جائیں ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ شہید کا یہی حکم ہے کہ اس سے ہتھیار،خود،زرہ،پوستین وغیرہ اتارلی جاتی ہیں اور اسے یونہی پہنے ہوئے کپڑوں میں بغیرغسل مع خاک و خون دفن کیا جاتا ہے،ہاں کفن کی کمی پوری کردی جاتی ہے،مثلًا شہید اگرصرف کرتاپائجامہ پہنے ہوئے ہے تو اسے چادر اور دی جائے گی۔شہیدکوغسل نہ دینے کی بہت سی احادیث ہیں جو بخاری اور دیگر صحاح وغیرہ کتب میں حضرت جابر وغیرہ سے منقول ہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1644 -[11]

عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ وَأَرَاهُ قَالَ: وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ: أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا وَلَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابراہیم سے وہ اپنے والد سے راوی کہ عبدالرحمان بن عوف کے پاس کھانا لایا گیا ۱؎ وہ تھے روزے دار تو فرمایا کہ مصعب ابن عمیر جو مجھ سے بہتر تھے جب شہید ہوئے تو ایسی چادرمیں کفن دیئے گئے کہ اگر انکا سر ڈھکاجاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤ ں ڈھکے جاتے تو سر کھل جاتا مجھے خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت حمزہ جو مجھ سے بہتر تھے۲؎ وہ بھی شہید ہوئے پھرہم پر دنیا اتنی پھیلائی گئی جوپھیلائی گئی یا فرمایا ہمیں دنیا اتنی ملی جوملی ہمیں خطرہ ہے کہ ہماری نیکیوں کا ثواب جلد دے دیا گیا ہو۳؎پھر رونے لگے حتی کہ کھانا چھوڑ دیا۴؎(بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html