Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یہ حکم استحبابی ہے کہ زندوں اور مُردوں کے لیے سفید کپڑامستحب ہے ورنہ عورت میت کے لیے ریشمی،سوتی،سرخ،پیلا ہرطرح کا کفن جائزہے اگرچہ بہترسفید اورسوتی ہے۔

۲؎ یہاں سرمہ سے زندوں کا سرمہ مراد ہے کیونکہ مردے کو سرمہ لگانا سنت نہیں،اثمد سرمہ سے مراد سادہ اصفہانی سرمہ ہے یعنی پتھر والا۔حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ شب کو سوتے وقت ہر آنکھ میں تین تین سلائی لگاتے تھے،اس سے پلک کے بال بڑھتے ہیں اور آنکھوں میں روشنی ہوتی ہے۔

1639 -[6]

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَغَالَوْا فِي الْكَفَنِ فَإِنَّهُ يُسْلَبُ سَلْبًا سَرِيعًا».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بہت بڑھیا کفن نہ دو کیونکہ یہ بہت جلد گل جائے گا ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی نہایت قیمتی اور بھاری کفن نہ دو کہ یہ اسراف بھی ہے اور بیکاربھی اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ میت کو درمیانی کفن دیا جائے اس لباس میں جس میں وہ اپنے دوستوں سے ملنے جاتا تھا،ہاں اچھادیاجائےجیساکہ ابھی حدیث میں گزر گیا۔

1640 -[7]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ. دَعَا بِثِيَابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَهَا ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُولُ: «الْمَيِّتُ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي يَمُوتُ فِيهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ آپ کو جب موت آئی تو آپ نے نئے کپڑے منگائے انہیں پہنا پھر فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میت انہیں کپڑوں میں اٹھے گی جن میں مرے گی ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ آپ نے اس حدیث کو ظاہری معنی پرمحمول کیا جیسے کہ حضرت عدی ابن حاتم نے"الْخَیۡطُ الۡاَبْیَضُ مِنَ الْخَیۡطِ الۡاَسْوَدِ"میں سوتی دھاگہ سمجھا تھا حالانکہ وہاں صبح کے نورانی ڈورے مراد ہیں،ایسے ہی اس حدیث میں کپڑوں سے مراد حال اور اعمال ہیں یعنی ایمان و کفر،تقویٰ اور فسق،جس حال میں مرے گا اسی میں قیامت کے دن اٹھے گا،ورنہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ سب مردے اپنی قبروں سے ننگے و بے ختنہ اٹھیں گے،رب فرماتا ہے:"کَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیۡدُہٗ"۔ بعض علماء نے اس کی توجیہ یوں کی کہ میت قبروں سے کپڑوں میں اٹھے گی محشر میں ننگی پہنچے گی لیکن یہ معنی بہت ہی بعید ہیں۔(لمعات)

1641 -[8]

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ وَخَيْرُ الْأُضْحِيَةِ الْكَبْشُ الْأَقْرَنُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا بہترین کفن یمنی جوڑاہے ۱؎ اوربہترین قربانی سینگ والا دنبہ ہے۔(ابوداؤد)

۱؎ حلہ یمنی چادر اور تہبندکو کہتے ہیں دو کپڑوں پرہی بولاجاتا ہے،چونکہ دوسری روایت میں آتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو حلہ یمنی اورقمیص میں کفن دیا گیا اس لیے مرد کے لیے تین کپڑے مسنون ہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ کفن میں یمنی جوڑا بہتر ہے۔ہمارے دادا پیر حضرت شاہ علی حسین صاحب کچھوچھوی رحمۃاﷲ علیہ عرف اشرفی میاں نے اپنی موت و کفن



Total Pages: 519

Go To