$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

وہاں کفن کی قمیص مراد ہے۔عمامہ کے متعلق بعض علماء نے اس کے معنی کیے ہیں کہ ان تین میں عمامہ نہ تھا بلکہ عمامہ ان کے علاوہ تھا،اس بناء پر مشائخ،علماء،صوفیاء کے کفن میں عمامہ دینا مستحب ہے۔واﷲ اعلم!

1636 -[3]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فليحسن كَفنه» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا دے ۱؎(مسلم)

۱؎ یہاں اچھے سے مراد بہت بھاری اور بیش قیمت کفن نہیں بلکہ جیسے کپڑے مرنے والا جمعہ کو پہنتا تھا ایسے کپڑے میں کفن دیا جائے نہ عید والوں میں نہ شادی والوں میں یعنی درمیانہ،لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ کفن میں غلو نہ کرو۔بعض روایات میں ہے کہ مُردوں کو اچھا کفن دو کیونکہ وہ آپس میں ملتے ہیں تو اچھے کفن سے خوش ہوتے ہیں۔

1637 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ ن فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْم الْقِيَامَة ملبيا»وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ خَبَّابٍ: قَتْلُ مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ فِي بَابِ جَامِعِ الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں ایک شخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جسے بحالت احرام اس کی اونٹنی نے کچل دیا وہ فوت ہوگیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور اس کے دوکپڑوں ہی میں کفن دو اور نہ اسے خوشبو لگاؤ نہ سر ڈھکو کہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا اٹھے گا ۱؎(مسلم،بخاری)اورہم خباب کی حدیث کہ مصعب ابن عمیرقتل کیےگئے ان شاءاﷲتعالٰی "باب جامع المناقب" میں ذکر کریں گے۲؎

۱؎ احناف کے ہاں یہ حدیث اس میت کی خصوصیات میں سے ہے۔ہرمحرم کا جو اپنے احرام میں فوت ہوجائے یہ حکم نہیں اسے دیگر مُردوں کی طرح ہی کفن دے کر دفن کیا جائے گا اسی لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہی کا ذکر فرمایا یہ نہ فرمایا کہ ہر محرم کے ساتھ تم یہی کیاکرناکیونکہ کفن دفن کے احکام کی احادیث عام ہیں ان میں محرم اور غیرمحرم کا فرق نہیں۔

۲؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی لیکن ہم نے اسے اس باب کے مناسب نہ سمجھا،لہذا بجائے یہاں کے وہاں لائیں گے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1638 -[5]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مَنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَمِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ فَإِنَّهُ يُنْبِتُ الشّعْر ويجلوا الْبَصَر» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفیدکپڑے پہنوکیونکہ یہ تمہارے تمام کپڑوں سے بہتر ہیں اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دو ۱؎  اور بہتر سرمہ اثمد ہے کہ وہ بال اگاتا ہے نگاہ تیزکرتا ہے۲؎ (ابو داؤد،ترمذی)ابن ماجہ نے موتاکم تک روایت کی۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html