Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

میں ہے کہ جس کا اول کلام"لا الہ الا اﷲ"ہو اس کے گناہوں کی معافی ہوگی،لہذا کوشش کرنی چاہیئے کہ بچے کی زبان کلمہ پر کھلے اس سے مراد پورا کلمہ ہے۔

1622 -[7]

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «اقرؤوا سُورَةَ (يس)عَلَى مَوْتَاكُمْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت معقل ابن یسار سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اپنے مرنے والوں پر سورۂ یسین پڑھاکرو ۱؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ اس میں سارے وہ احتمالات ہیں جو پہلی حدیث میں عرض کیے گئے،یعنی جس کی جان نکل رہی ہوں وہاں بیٹھ کر یٰسین پڑھو تاکہ جان کنی آسان ہو بعد دفن قبر پر پڑھو،نیز کچھ روز تک میت کے گھر میں پڑھتے رہو۔(اشعۃ اللمعات)قرآن کی ہرسورۃ میں کوئی خاص فائدہ ہوتاہے،سورۂ یٰسین میں حل مشکلات کی تاثیر ہے۔

1623 -[8]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ وَهُوَ يَبْكِي حَتَّى سَالَ دُمُوعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى وَجْهِ عُثْمَانَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

 روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان ابن مظعون کی میت کو چوما حالانکہ حضور رو رہے تھے حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو عثمان کے چہرے پر بہنے لگے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

۱؎ حضرت عثمان ابن مظعون وہ پہلے مہاجر ہیں جو مدینہ پاک میں فوت ہوئے اور جنت البقیع میں دفن ہوئے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دست اقدس سے ان کی قبر کے سرہانے پتھر گاڑا،آپ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی ہیں،صاحب ہجرتین ہیں،اسلام سے پہلےبھی کبھی شراب نہ پی،بڑے عابد اورتہجدگزارصحابی تھے،ہجرت کے تیس ماہ بعد شعبان کے مہینہ میں وفات پائی،حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا انہیں چومنا غسل دینے سے پہلے تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ میت غسل سے پہلے بھی پاک ہوتی ہے اس کا غسل جنابت کا سا غسل ہے۔(لمعات)لمعات میں اسی جگہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کا عظیم الشان مقبرہ بنایا گیا۔

1624 -[9]

وَعَن عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا حالانکہ حضور وفات یافتہ تھے ۱؎ (ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎  اس سےمعلوم ہوا کہ میت کوتعظیمًا اور شفقۃً چومناجائزہے،ہاں مرد اپنی بیوی کو اس کے فوت ہونے کے بعد اور بیوی مرد کو نہیں چوم سکتی،ابن ابی شیبہ میں ہے کہ حضرت ابن عمر اپنا منہ آپ کی پیشانی پر رکھ کر رونے لگے چومتے تھے اور کہتے تھے تم پر میرے ماں باپ فدا،آپ زندگی میں بھی اچھے اور بعد وفات بھی۔

1625 -[10]

وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ:«إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ بِهِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهِ وَعَجِّلُوا فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت حصین ابن وحوح سے طلحہ بن براء بیمار ہوئے ۱؎ تو انکے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے تشریف لائے پھر فرمایا میرا گمان ہے کہ طلحہ کی وفات آہی گئی ہے مجھے اس کی خبردینا اورجلدی کرنا کیونکہ مسلمان میت کا اپنے گھر والوں میں رکا رہنا مناسب نہیں ۲؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To