Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

خباب! اﷲ تم پر رحم فرمائے تم رغبت سے ایمان لائے،خوشی سے مہاجر بنے،غازی بن کر جیئے،بیماری میں بہت مبتلا رہے،اﷲ تمہارا اجرضائع نہ کرے گا۔

۲؎ یعنی میں اتنا سخت بیمار ہوں کہ جسم زخموں سےچھلنی ہے،سات جگہ گرم لوہے سے داغا جاچکاہے،تمنائے موت کو دل چاہتا ہے مگرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مانع ہے۔خیال رہے کہ داغ زخم کا آخری علاج ہے،جب کوئی دوا کارگر نہ ہو توگرم لوہے سے داغ دیتے ہیں۔

۳؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اکثر صحابہ فقر و فاقہ میں تھے،خلافت فاروقی وعثمانی میں صحابی پر دنیا خدا کے فضل سے پھٹ پڑی تب ان کی مالداری حساب سے وراءہوگئی کیونکہ سارے ممالک انہی خلافتوں میں فتح ہوئے،آپ اسی جانب اشارہ فرماتے ہیں یعنی مجھے یہ خوف ہے کہ یہ مالداری ہمارے اعمال کا بدلہ نہ ہوگئی ہو۔

۴؎ کیونکہ کفن بہت قیمتی اور نفیس تھا اسے دیکھ کر آپ کو حضرت حمزہ کی بیکسی کی شہادت یاد آگئی۔

۵؎ یعنی مرد کے لیے کفن سنت تین کپڑے ہیں اور کفن ضرورت صرف ایک مگر حضرت حمزہ جو سیدالشہداء اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثار چچا ہیں مجھ سے افضل تھے انہیں کفن ضرورت بھی نہ ملا بہتر ہوتا کہ میں بھی انہی کی طرح دفن ہوتا۔اس سےمعلوم ہورہا ہےکہ فقیرصابر غنی شاکر سے افضل ہےکیونکہ آپ اس غنا پر افسو س کررہے ہیں اور اس فقر کی تمنا۔


 



Total Pages: 519

Go To