$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

الفصل الثالث

تیسری فصل

1613 -[16]

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمَنَّوُا الْمَوْتَ فَإِنَّ هَوْلَ الْمُطَّلَعِ شَدِيدٌ وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَيَرْزُقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْإِنَابَة» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ موت کی آرزو نہ کرو کیونکہ اس پہاڑ کی وحشت سخت ہے ۱؎ اور یہ نیک بختی ہے کہ بندے کی عمر دراز ہو اور اﷲ اسے رجوع الی اﷲ نصیب کرے ۲؎ (احمد)

۱؎ مُطَّلَعَ اِطِّلَاع کا ظرف مکان ہے یعنی خبر پانے کی جگہ،اونچا ٹیلہ یا پہاڑ کی چوٹی جہاں دشواری سے پہنچیں مگر وہاں پر سار ے میدان کو دیکھ لیں،چونکہ موت کے وقت انسان دنیا و آخرت دونوں کو دیکھتا ہے اور ہے گھبراہٹ کا وقت،اس لیئے اسےمطلع فرمایا گیا،یعنی دنیوی تکالیف سےگھبرا کر موت نہ مانگوکیونکہ موت کی شدت ان تکالیف سے بہت زیادہ ہے کیابارش سے بھاگ کر پر نالہ کے نیچے کھڑا ہونا چاہتے ہو۔

۲؎ لمبی عمر اگر گناہوں میں گزرے تو عذاب الٰہی  ہے جیسے شیطان کی عمر اور اگر عبادتوں میں گزرے تو رحمت الٰہی  ہے جیسے نوح علیہ السلام کی عمر،اﷲ یہ دوسری عمر نصیب کرے۔

1614 -[17]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا وَرَقَّقَنَا فَبَكَى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي مِتُّ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا سَعْدُ أَعِنْدِي تَتَمَنَّى الْمَوْتَ؟» فَرَدَّدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: «يَا سَعْدُ إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ فَمَا طَالَ عُمْرُكَ وَحَسُنَ مِنْ عَمَلِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَك» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے حضور نے ہمیں نصیحت فرمائی اور ہمارے دل نرم کردیئے حضرت سعد ابن ابی وقاص روئے اور بہت روئے ۱؎ بولے ہائے کاش میں مرجاتا تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سعد کیا میرے روبرو موت کی آرزو کرتے ہو یہ تین بار فرمایا ۲؎ پھر فرمایا اے سعد اگر تم جنت کے لیئے پید ا کیئے گئے ہو توجس قدر تمہاری عمر دراز ہو اور تمہارے عمل اچھے ہوں تمہارے واسطے بہتر ہے۳؎(احمد)

۱؎ صوفیاء فرماتے ہیں کہ حلق کی بات کان میں پہنچتی ہے اور دماغ کی بات دماغ میں،مگر جوبات دل سے نکلتی ہے وہ دل ہی پر پڑتی ہے،نہ معلوم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کیسے پیارے تھے جنہوں نے صحابہ کے ایمان تازہ،دماغ روشن اور دل نرم کردیئے۔اس کلام پاک میں یہ تاثیر قیامت تک رہے گی جیساتجربہ اب بھی ہورہا ہے۔

۲؎ یعنی کیا میری زندگی میں اور میرے پاس رہ کر موت مانگتے ہوتمہیں اس وقت میری صحبتیں اور زیارتیں نصیب ہیں جو موت سے جاتی رہیں گی،اگر چہ تمہیں بعدموت بڑے درجے ملیں گے مگر وہ سارے درجے اس ایک نظر پر قربان جوتمہیں اب میسر ہیں۔کسی فقیر سے پوچھا گیا کہ مؤمن کی زندگی بہتر ہے یا موت اس نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات



Total Pages: 519

Go To
$footer_html