Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1604 -[7]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي فَقَالَ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ» . وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ وَمِنْ حياتك لموتك. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کندھا پکڑکر فرمایا دنیا میں یوں رہو گویا تم مسافر ہو یا راستہ طے کرنے والے ہو ۱؎ حضرت ابن عمر فرماتے تھے کہ جب تم شام پالو تو صبح کے منتظر نہ رہو اور جب صبح پالو تو شام کی امید نہ رکھو اور اپنی تندرستی سے بیماری کے لیئے اور زندگی سے موت کے لیئے کچھ توشہ لے لو۲؎(بخاری)

۱؎ یعنی جیسے مسافر منزل اور وہاں کی زیب و زینت سے دل نہیں لگاتاکیونکہ اسے آگےجانا ہوتاہے ایسے ہی تم یہاں کے انسان اور سامان سے دل نہ لگاؤ،ورنہ مرتے وقت ان کے چھوٹنے سے بہت تکلیف ہوگی۔صوفیاءجو فرماتے ہیں کہ "حُبُّ الْوَطنِ مِنَ الْاِیْمَانِ"یعنی وطن کی محبت ایمان کا رکن ہے وہاں وطن سے مراد جنت ہے یعنی اصلی وطن یا مدینہ منورہ کہ وہ مؤمن کا روحانی وطن ہے۔

۲؎ حضرت ابن عمر یہ اپنے نفس سے خطاب کرتے تھے کہ زندگی کی لمبی امیدیں نہ باندھو ہرنماز آخری نمازسمجھ کر پڑھو،تندرستی اور زندگی کو غنیمت جانو جس قدر ہوسکے اس میں نیکیاں کمالو،ورنہ بیماری میں اورموت کے بعد کچھ بن نہ پڑے گا۔شعر

کر جوانی میں عبادت کاہلی اچھی نہیں                       جب بڑھاپا آگیا پھربات بن پڑتی نہیں

ہے بڑھاپابھی غنیمت جب جوانی ہوچکی                    یہ بڑھاپابھی نہ ہوگا موت جس دم آگئی

1605 -[8]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَقُولُ: «لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّه» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سےتین دن پہلے یہ فرماتے سناکہ تم میں سے کوئی نہ مرے مگر اس طرح کہ اﷲ سے اچھی امید رکھتا ہو ۱؎ (مسلم)

۱؎ صوفیا فرماتےہیں نیک بختی کی نشانی یہ ہے کہ بندے پر زندگی میں خوفِ خدا غالب ہو اورمرتے وقت امید،نیک کار نیکیاں قبول ہونے کی امید رکھیں اور بدکارمعافی کی۔امید کی حقیقت یہ ہے کہ انسان نیکیاں کرے اور اس کے فضل کا امیدوار رہے، بدکاری کے ساتھ امید رکھنا دھوکا ہے امید نہیں۔اس حدیث کی بنا پربعض بزرگوں نے کہا کہ خوف کی عبادت سے امیدکی عبادت بہتر ہے۔

الفصل الثاني

دوسری فصل

1606 -[9]

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن شِئْتُم أنبأتكم مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُولُونَ لَهُ؟» قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُول للْمُؤْمِنين هَل أَحْبَبْتُم لقائي؟ فَيَقُولُونَ نَعَمْ يَا رَبَّنَا فَيَقُولُ: لِمَ؟ فَيَقُولُونَ: رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ. فَيَقُولُ: قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي ". رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْية

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتادوں کہ قیامت میں اﷲ مسلمانوں سے پہلے کیا فرمائے گا اورمسلمان پہلے کیا عرض کریں گے ۱؎ ہم نے کہا حضورصلی اللہ علیہ وسلم ضرور فرمایاجائے فرمایا اﷲ تعالٰی مسلمانوں سے فرمائے گا کیا تم مجھ سے ملنا چاہتے ہوعرض کریں گے ہاں یا رب،فرمائے گا کیوں؟عرض کریں گے کہ ہم تیری معافی اورمغفرت کی آس لگاتے تھے۲؎ تب فرمائے گا کہ تمہارے لیئے میری بخشش واجب ہوگئی۳؎ شرح سنہ و ابونعیم(حلیہ)

 



Total Pages: 519

Go To