$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب تمنی الموت و ذکرہ

باب موت کی آرزو اور اس کا ذکر   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ موت کی آرزو اچھی بھی ہے اور بری بھی،اگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کے لیے یا دنیاوی فتنوں سے بچنے کے لیے موت کی تمناکرنا ہے تو اچھاہے اور اگر دنیوی تکالیف سےگھبرا کرتمنائے موت کرے تو بُرا۔موت کی یاد بہترین عبادت ہے خصوصًا جب اس کے ساتھ تیاریٔ موت ہو۔

1598 -[1]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يستعتب» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے نیک کار تو اس لیئے کہ شاید وہ نیکیاں بڑھالے اور بدکار اس لیئے کہ شاید وہ توبہ کرے ۱؎ (بخاری)

۱؎ یعنی مؤمن کی زندگی بہرحال اچھی ہے کیونکہ اعمال اسی میں ہوسکتے ہیں۔

1599 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلَا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ إِنَّهُ إِذَا مَاتَ انْقَطَعَ أَمَلُهُ وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خيرا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی نہ موت کی آرزو کرے نہ اس کے آنے سے پہلے اس کی دعا کرے ۱؎ کیونکہ جب وہ مرجائے گا تو اس کی امیدیں ختم ہوجائیں گی اور مؤمن کی عمر بھلائی ہی بڑھاتی ہے ۲؎(مسلم)

۱؎ احادیث کی شرح آگے آرہی ہےکہ دنیوی تکالیف سےگھبرا کر موت نہ مانگے کہ اس میں بے صبری ہے اور خدا کی بھیجی مصیبت پر ناراضی،ہاں دینی خطرات کے موقع پر تمنائے موت بھی جائزہے اور دعائے موت بھی۔

۲؎ یعنی زندگی کا زمانہ تخم بونے کا زمانہ ہے جو کچھ بوئے گا آگے چل کر کاٹےگا۔بدکار اگر توبہ کرے گا تو اسی زندگی میں،نیک کارنیکیاں بڑھائے گا تو اسی زندگی میں۔خیال رہے کہ بعض مؤمن قبرمیں بھی نمازیں پڑھتے ہیں،تلاوتِ قرآن بھی کرتے ہیں مگر ان اعمال پر ثواب نہیں صرف روحانی لذت ہے جیسے فرشتوں کے اعمال پرثواب نہیں بلکہ ان سے ان کی بقا اورلذت ہے، لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں قبر کی عبادتوں کا ذکر ہے اسی لیے مُردوں کو ایصال ثواب کرتے ہیں کہ زندگی کے عمل پرثواب ملتا ہے جو انہیں بخشاجاتاہے۔

1600 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ فَإِنْ كَانَ لابد فَاعِلًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لي "

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سےکوئی آئی ہوئی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمنا نہ کرے پھر اگر کرنا ہی پڑ جائے تو یوں کہے الٰہی  جب تک میرے لیئے زندگی بہتر ہو تو مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لیئے موت بہتر ہو تو مجھے موت دے ۱؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html