Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1579 -[57]

وَعَن شَدَّاد بن أَوْس والصنابحي أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى رَجُلٍ مَرِيضٍ يَعُودَانِهِ فَقَالَا لَهُ: كَيفَ أَصبَحت قَالَ أَصبَحت بِنِعْمَة. فَقَالَ لَهُ شَدَّادٌ: أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَايَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِذَا أَنَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي عَلَى مَا ابْتَلَيْتُهُ فَإِنَّهُ يَقُومُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنَ الْخَطَايَا. وَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي وَابْتَلَيْتُهُ فَأَجْرُوا لَهُ مَا كُنْتُمْ تُجْرُونَ لَهُ وَهُوَ صَحِيح ". رَوَاهُ احْمَد

روایت ہے حضرت شداد ابن اوس اور صنابحی سے ۱؎ کہ وہ دونوں ایک مریض کی بیمار پرسی کے لیئے گئے انہوں نے اس سے کہا کہ تم نے صبح کیسی کی وہ بولے اﷲ کی نعمت میں صبح کی۲؎ شداد نے فرمایا گناہوں کے مٹنے اور خطاؤں کے جھڑنے کی خوش خبری لو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے جب میں اپنے بندوں میں سےکسی مؤمن بندے کو مبتلا کردوں اور وہ اس مبتلا کرنے پر میری حمدکرے تو وہ اپنے اس بسترسے گناہوں سے یوں پاک اٹھے گا جیسے آج اسے ماں نے جنا۳؎ رب تعالٰی فرمائے گا کہ میں نے اپنے بندے کو قید کیا مبتلا کیا تو اس کے لیئے وہ ثواب جاری کرو جوتم اس کے تندرستی میں جاری کرتے تھے ۴؎(احمد)

۱؎ شداد ابن اوس خودبھی صحابی ہیں اور والدبھی صحابی،حضرت حسان ابن ثابت کےبھتیجے ہیں،انہیں اﷲ نے علم وحکمت دونوں عطا فرمائیں اور صنابحی کا نام عبداﷲ ہے،قبیلہ مراد کے صنابح ابن زاہر کے خاندان سے ہیں یا تابعی،بعض نے فرمایا کہ عبداﷲ صنابحی صحابی ہیں اور ابوعبداﷲ صنابحی تابعی ہیں،یہاں غالبا ًتابعی مرادہیں

۲؎ سبحان اﷲ! کیا پیارا کلمہ ہے یعنی بیمار ہوں مگر رب سے غافل نہیں،مصیبت میں گرفتارہوں معصیت سے آزاد،اﷲ کے پیارے معصیت پرمصیبت کو ترجیح دیتے ہیں،یوسف علیہ السلام نے جیل جانا منظور کیا زلیخا کی بات نہ مانی،رب فرماتا ہے: "قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ"الایہ۔اس میں قیامت تک بیماروں کوتعلیم ہے کہ بیماری میں بجائے ہائے وائے کرنے کے اس قسم کے کلمات کہا کریں،رب کی بھیجی بیماری بھی نعمت ہے۔

۳؎ کیونکہ اس کے لیے کئی کفارے جمع ہوگئے:بیماری،اس میں صبر،پھر رب کا شکر،پھرگزشتہ گناہوں سے توبہ،پھرموت کی تیاری،دنیا سے نفرت،قبر اور وہاں کی وحشت کا خوف،یہ ساری چیزیں گناہوں کے مستقل کفارے ہیں جو بفضلہٖ تعالٰی مؤمن بیمارکو حاصل ہوتےہیں۔خیال رہے کہ یہاں گناہوں کے مٹنے سے مرادصغیرہ گناہوں کی معافی ہے،حقوق شریعت کے ہوں یا بندوں کے وہ بغیر اداکئے معاف نہیں ہوتے ہیں۔بیمارکو چاہیے کہ قرض مظالم وغیرہ جلدی اداکرے کیونکہ بیماری موت کا پیغام ہوتی ہے اگلے گھر میں پہنچنے سے پہلے اس کو صاف کرلو۔

۴؎ یعنی جتنی نیکیاں یہ بندہ تندرستی میں کرتا تھا اور اب بیماری میں نہ کرسکا اس کے نامۂ اعمال میں وہ ساری نیکیاں لکھے جاؤ گویا رب کی طرف سے کمزور بندے کی یہ پنشن ہوتی ہے۔

1580 -[58]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا مِنَ الْعَمَلِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِالْحَزَنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنهُ» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب بندے کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس کے پاس گناہ مٹانے والا عمل نہیں ہوتا تو اﷲ اسے غم میں مبتلاکردیتا ہے تاکہ اس کے گناہ مٹادے ۱؎(احمد)

 



Total Pages: 519

Go To