Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1569 -[47]

وَعَن عبد الله بن شخير قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُثِّلَ ابْنُ آدَمَ وَإِلَى جَنْبِهِ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ مَنِيَّةً إِنْ أَخْطَأَتْهُ الْمَنَايَا وَقَعَ فِي الْهَرَمِ حَتَّى يَمُوتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن شخیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس کے آس پاس۹۹بلائیں ہیں ۱؎ اگر ان سب بلاؤں سے بچ گیا تو بڑھاپے میں پڑےگا حتی کہ مرجائے۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ منیّہ لغت میں مقرر چیزکو کہتےہیں۔اصطلاح میں موت کو منیّہ کہا جاتا ہے کہ اس کا وقت مقرر ہے،پھربلاؤں اور آفتوں کو منیّہ کہا جانے لگا کہ یہ اسبابِ موت ہیں۔مثل یا تو ماضی ہے،بمعنی قَدَرَوَ خَلَقَ یعنی انسان آفتوں میں گھرا ہوا پیدا ہوا ہے کیونکہ اس کا نفس امّارہ بہت سرکش ہے،یہ آفتوں سے ٹھکانا پُر رہتا ہے،آرام پاکر دعویٰ خدائی تک کربیٹھتاہے یا مثل حصہ رہے،یعنی انسان کی مثل اس کی سی ہے جو ۹۹ آفتوں میں ہرطرف سے گھرا ہو،۹۹سے عدد خاص مراد نہیں بلکہ کثرت بیان فرمانا مقصود ہے۔

۲؎ یعنی انسان کے لیے اسباب موت بے شمار ہیں،ہر گھڑی موت سر پر کھڑی ہے لیکن اگر بحکم پروردگار ان سب سے بچ گیا تو آخر بڑھاپا تو آئے گا ہی جس کے بعدموت یقینی ہے،لہذا حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ تقدیر میں تو آفتیں تھیں مگر انسان اپنے کمال سے بچتا رہتا ہے کیونکہ تدبیر سے تقدیر نہیں بدلتی۔

1570 -[48]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَوَدُّ أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يُعْطَى أَهْلُ الْبَلَاءِ الثَّوَابَ لَوْ أَنَّ جُلُودَهُمْ كَانَتْ قُرِضَتْ فِي الدُّنْيَا بِالْمَقَارِيضِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتےہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن جب بلاء والوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام والے تمنا کریں گے کہ کاش ان کی کھالیں دنیا میں قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتیں ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ یعنی تمنا و آرزو کریں گے کہ ہم پر دنیا میں ایسی بیماریاں آئی ہوتیں جن میں آپریشن کے ذریعہ ہماری کھالیں کاٹی جاتیں تاکہ ہم کو بھی وہ ثواب آج ملتا جو دوسرے بیماروں اور آفت زدوں کو مل رہا ہے۔

1571 -[49]

وَعَن عَامر الرام قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْقَامَ فَقَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَصَابَهُ السقم ثمَّ أَعْفَاهُ الله مِنْهُ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ وَمَوْعِظَةً لَهُ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ. وَإِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا مرض ثمَّ أعفي كَانَ كالبعير عَقَلَهُ أَهْلُهُ ثُمَّ أَرْسَلُوهُ فَلَمْ يَدْرِ لِمَ عقلوه وَلم يدرلم أَرْسَلُوهُ».فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْأَسْقَامُ؟ وَاللَّهِ مَا مَرِضْتُ قَطُّ فَقَالَ: «قُمْ عَنَّا فلست منا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عامر رام ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا تو فرمایا کہ مؤمن کو جب بیماری پہنچتی ہے پھر اﷲ اسے آرام دے دیتا ہے تو یہ گزشتہ گناہوں کاکفارہ بن جاتی ہے اور آیندہ کے لیئے نصیحت۲؎ اورمنافق جب بیمار ہوتا ہے پھر آرام دیا جاتا ہے تو اس اونٹ کی طرح ہوتا ہے جسے اس کے مالکوں نے باندھ دیا پھرکھول دیا وہ نہیں جانتا کہ اسے کیوں باندھا اور کیوں کھولا۳؎ تو ایک شخص بولا یارسول اﷲ بیماریاں کیا ہیں قسم رب کی میں تو کبھی بیمارا ہوا ہی نہیں تو فرمایا ہمارے پاس سے ہٹ جاؤ تم ہم میں سے نہیں۴؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To