Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1518 -[8]  

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: -[481]- " لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مَا تَكْرَهُونَ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوا کو گالی نہ دو جب تم کوئی ناپسندچیز دیکھو تو کہو الٰہی  ہم تجھ سے اس ہوا کی بھلائی اور جو اس ہوا میں ہے اس کی بھلائی اورجس کا اسے حکم ہے اس کی بھلائی مانگتے ہیں اور اس ہوا کی شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اور جس کا اسے حکم ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۱؎(ترمذی)

۱؎ یعنی ہوا کو گالی دینے سے فائدہ تو کوئی نہ ہوگا تم مجرم اورگنہگار ہوجاؤ گے۔اس دعا کے پڑھ لینےسےثواب بھی پاؤ گے،امن بھی اورکوئی نقصان نہ ہوگا۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ لعنت کے اسباب کل تین ہیں:کفر،بدعت،فسق۔ہوا میں یہ کوئی نہیں تو اس پرلعنت کیسی۔

1519 -[9]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا هَبَّتْ رِيحٌ قَطُّ إِلَّا جَثَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم على رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً وَلَا تَجْعَلْهَا عَذَابًا اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رِيَاحًا وَلَا تَجْعَلْهَا رِيحًا» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى: (إِنَّا أرسلنَا عَلَيْهِم ريحًا صَرْصَرًا)و (أرسلنَا عَلَيْهِم الرّيح الْعَقِيم)(وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاح لَوَاقِح)و (أَن يُرْسل الرِّيَاح مُبَشِّرَات)رَوَاهُ الشَّافِعِي وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير

روایت ہے حضرت ابن عباس سےفرماتے ہیں کہ ایسا کبھی نہ ہوا کہ ہوا چلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنوں شریف پر بیٹھ کر یہ نہ کہیں ۱؎ کہ الٰہی  اسے رحمت بنا اسے عذاب نہ بنا الٰہی  اسےریاح بنا ریح نہ بناحضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اﷲ کی کتاب میں ہے کہ ہم نے ان پر تیز ہوا (آندھی)بھیجی اور ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی اور ہم نے حاملہ ہوائیں بھیجیں اور یہ کہ خوشخبریاں دینے والی ہوائیں بھیجیں۲؎(شافعی،بیہقی دعوات کبیر)

۱؎ دونوں پنڈلیاں بچھاکر رانوں پرکھڑے ہوکر یہ فرماتے تھے اس طرح بیٹھناانتہائی عجز کا اظہار ہے،خصوصی دعاؤں کے وقت ایسی نشست قبولیت کا ذریعہ ہے۔

۲؎ حضرت ابن عباس نے اس حدیث کی شرح قرآنی آیات سے فرمائی کہ قرآن کریم میں ریح تو عذاب کی ہوا کو کہا گیا ہے اور ریاح رحمت کی ہوا کو اس لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ریح نہ بنا،ریاح بنا۔خیال رہے کہ قرآن کریم میں ریح کو رحمت کی ہوا بھی کہا گیا ہے مگرکسی صفت کے ساتھ،جیسے رب کا فرمان:"وَجَرَیۡنَ بِہِمۡ بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ

1520 -[10]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَبْصَرْنَا شَيْئًا مِنَ السَّمَاءِ تَعْنِي السَّحَابَ تَرَكَ عَمَلَهُ وَاسْتَقْبَلَهُ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ» فَإِنْ كَشَفَهُ حَمِدَ الله وَإِن مطرَت قَالَ: «اللَّهُمَّ سَقْيًا نَافِعًا». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالشَّافِعِيّ وَاللَّفْظ لَهُ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان پرکوئی شےیعنی بادل نمودار دیکھتے تو اپنے کام کاج چھوڑ دیتے اور ادھرمتوجہ ہوجاتے ۱؎ اورکہتے الٰہی  جو کچھ اس میں ہے اس کی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر اگرکھل جاتا تو اﷲ کا شکر کرتے اور اگر بارش ہوتی تو کہتے الٰہی  اسے نفع بخش بارش بنا ۲؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،شافعی)لفظ شافعی کے ہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To