Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1496 -[3]

وَعَن سعد بن أبي وَقاص قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نم مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ عَزْوَزَاءَ نَزَلَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا قَالَ: «إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الْآخِرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ معظمہ سے چلے مدینہ پاک کا ارادہ کرتے تھے جب ہم عزوزاء کے قریب پہنچے ۱؎  توحضور ا ترے پھر اپنے ہاتھ اٹھائے ایک گھڑی اﷲ سے دعا مانگی پھرسجدے میں گرے اس میں بہت ٹھہرے پھر اٹھے تو ایک گھڑی اپنے ہاتھ اٹھائے رہے۲؎  پھرسجدے میں گرے وہاں بہت ٹھہرے پھر اٹھے ایک گھڑی اپنے ہاتھ اٹھائے پھر سجدےمیں گرے  فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے سوال کیا اورشفاعت کی تو رب نے مجھے تہائی امت دے دی میں رب کا شکر کرتے سجدے میں گرگیا پھر میں نے اپنا سر اٹھایا اپنے رب سے اپنی امت کے لیئے سوال کیا مجھے تہائی امت دے دی میں رب کا شکر کرتے سجدے میں گرگیا پھر میں نے اپنا سر اٹھایا اپنے رب سے اپنی امت کے لیے سوال کیا اس نے مجھے آخری تہائی بھی دے دی تو میں رب کا شکر کرتے سجدے میں گر گیا۳؎(احمد،ابوداؤد)

۱؎ عزوزاءمقام حجفہ میں ایک خشک پہاڑی کا نام ہے،چونکہ یہاں پتھریلی اورسخت زمین ہے،پانی بہت کم ہے اس لیے اسےعزوزاء کہتے ہیں اورعزوزاءاونٹنی ہے جس کا دودھ سختی سے دوہا جاتاہے،سخت دھار ہو۔

۲؎ عزوزاء میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا اترنا ٹھہرنے کے ارادے سے نہ تھا،بلکہ بذریعۂ وحی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ جنگل برکت والا ہےیہاں دعاکریں،لہذا دعا کے لیے اترے۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کایہاں پہلا سجدہ دعاء کے لیے تھا کیونکہ سجدے میں دعاجلدی قبول ہوجاتی ہے۔باقی سجدے دعا کے لیےبھی تھے اورشکریہ کے بھی،آخری سجدہ صرف شکریہ کا تھا اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔یا یہ سب سجدے شکر کے تھے،دعائیں تو بیٹھ کر ہاتھ اٹھاکر مانگی گئیں،دوسرا احتمال قوی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ دعا میں ہاتھ اٹھانا اور آہستہ مانگنا سنت ہے۔

۳؎  یہاں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے گناہوں کی مغفرت،ان کی عیب پوشی اور بلندیٔ مراتب وغیرہ تمام چیزوں کی دعائیں کی،رب نے ترتیب وارتمام امت کی بخشش وغیرہ کا وعدہ فرمالیا۔پہلی بارمیں سَابِقِیْنَ بِالْخَیْرَاتِ،دوسری بار میں مُقْتَصِدِیْنَ،تیسری میں ہم جیسے ظالمین،عاصین،گناہگار بخشے گئے،اب مومن کے لیے جہنم میں ہمیشگی نہ ہوگی۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کوئی بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے بغیر رب کی رحمت نہیں پاسکتا۔جو ملے گا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کا صدقہ ملے گا۔نیک ابرارکو پہلی دعا کا صدقہ،مخلوط اعمال والوں کو دوسری دعا کا توسل،بدکار و فجار کوتیسری دعا سے حصہ ملے گا۔دوسرے یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے ایسے محبوب ہیں کہ ضدکرکے،ناز کرکے اپنی امت بخشالیتےہیں۔ہم گنہگاروں کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی اس محبوبیت پر ناز ہے۔شعر

چہ غم دیوار امت راکہ داردچوں توپشتی باں                      چہ باک از موج بحرآن راکہ داردنوح کشتی باں

ہم بُرے ہیں مگر بفضلہٖ تعالٰی اسی اچھے کے ہیں،صلی اللہ علیہ وسلم۔خیال رہے کہ پہلی بار والے بغیرحساب وکتاب جنتی ہیں، دوسری باروالے کچھ جھڑک وعتاب کے بعد،تیسری باروالے یا کچھ عذاب پاکر یامعافی پاکر۔


 



Total Pages: 519

Go To