$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

زیادہ پڑھیں مگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صرف ایک ہی دفعہ سورج گرہن ہوا ہے اس لیے توجیہ نہیں بنتی،بس اب یہی کہا جاسکتا ہےیہ ایک روایت بے شمار مذکورہ روایتوں کے خلاف ہے یہ ناقابل قبول ہے۔

۲؎ یعنی جیسے اورنفل پڑھے جاتے ہیں کہ ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے  ایسے ہی یہ نماز گرہن بھی پڑھی گئی،یہ حدیث  امام اعظم کی دلیل ہے کہ نماز گرہن میں ہر رکعت میں ایک رکوع اور دوسجدے  ہیں۔اس کی پوری بحث ہم اس باب میں پہلے کرچکے ہیں۔اس حدیث کی تائید دوسری بہت سی احادیث سے ہورہی ہے اورقیاس شرعی بھی اس کےموافق ہے،لہذا یہی قابل عمل ہے۔

۳؎  اور اتفاقًا آج حضرت ابراہیم کا انتقال بھی ہوا ہے تو اس واقعہ سے ان کے خیال اورپختہ ہوجانے کا اندیشہ ہے اس لیے کان کھول کر سن لو۔

۴؎  جیسے بارشوں اور آندھیوں کا آنا زمین پر زلزلے کسی کے مرنے جینے سےنہیں بلکہ رب کی قدرت کے اظہار کے لیے ہیں ایسے ہی چاندسورج کا گہناکسی کی موت زندگی کی وجہ سے نہیں۔

۵؎  اس طرح نصف النہار کا وقت آجائے یا سورج گہنے کی حالت میں غروب ہوجائے یاچاند کے گہنے کی حالت میں سویرا ہوجائے تو نماز چھوڑدو کیونکہ دقتوں میں نماز منع ہے،یہ مطلب نہیں کہ قیامت آجائےکیونکہ اس وقت دنیا میں کوئی مسلمان نہیں ہوگا،پھرنمازکیسی اور ذکر اﷲ کیسا،لہذا حدیث پرکوئی اعتراض نہیں۔

باب فی سجود الشکر

سجدۂ شکر کاباب ۱؎

یہ باب پہلی اورتیسری فصل سے خالی ہے۲؎

۱؎ یعنی دینی یا دنیوی خوشی کی خبرسن کر سجدے میں گرجانا اسے سجدۂ شکر کہا جاتا ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ سجدہ بدعت اورممنوع ہے،بعض کے ہاں سنت ہے،امام محمدکا یہی قول ہے،بعض علماء نے مکروہ فرمایا،یہ فرماتے ہیں کہ سجدۂ شکر کی احادیث میں سجدہ سے نماز مراد ہے،یعنی جز سے کل۔(لمعات)مگرقول سنیت صحیح ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کے قتل،صدیق اکبر نے مسیلمہ کذاب کے قتل اورسیدنا علی المرتضٰی نے ذوالسنہ خارجی کے قتل کی خبریں سن کر سجدۂ شکر ادا کیے اور کعب ابن مالک قبول توبہ کی بشارت پرسجدہ میں گر گئے۔(ازلمعات واشعہ)

۲؎  یعنی صاحب مصابیح نے اس باب کی فصل اول نہیں قائم کی کیونکہ انہیں صحیحین میں اس کی کوئی روایت نہ ملی۔حیرت ہے کعب ابن مالک کا قبول توبہ پر سجدۂ شکر کرنا صحیحین میں موجود ہے مگر مصنف کا ادھرخیال نہ گیا میں نے تیسری فصل قائم نہ کی،مجھے اس کی زیادہ روایتیں نہ ملیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1494 -[1]

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ أَمْرٌ سُرُورًا أَوْ يُسَرُّ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شَاكِرًا لِلَّهِ تَعَالَى.رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هَذَا حَدِيثٌ حسن غَرِيب

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خوشی کی خبرپہنچتی یا آپ خوش ہوتے ۱؎ تو اﷲ تعالٰی کا شکر کرتے ہوئے سجدہ میں گر جاتے۲؎(ابوداؤد، ترمذی)ترمذی نے کہایہ حدیث حسن غریب ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html