Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎  اس میں کفارعرب کے مذکورہ بالاعقیدہ کی تردیدہے اور آج کل کے فلاسفہ کا رد ہے کیونکہ خسوف و کسوف محض چاندسورج کی حرکات سے ہوتے ہیں،نہیں بلکہ قیامت یاد دلاتے اور رب کی قدرت ظاہر کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔

۴؎ اس جملہ سے معلوم ہوا کہ گرہن پرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا گھبرانا ہماری تعلیم کے لیے تھااور خدا کی ہیبت سے نہ کہ اپنی بے علمی یا خدا کے وعدوں پر بے اعتمادی کی وجہ سے گرہن میں جیسےنمازپڑھنا سنت اختیاری ہے ایسے ہی دل کی گھبراہٹ بے اختیاری سنت ہے۔

1485 -[6]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس دن حضور علیہ السلام کے فرزند ابراہیم نے وفات پائی ۱؎ سورج گھر گیا تو آپ نے لوگوں کو چھ رکوع اور چار سجدوں میں نماز پڑھائی۔۲؎(مسلم)

۱؎  حضرت ابراہیم ذی الحجہ    ۸ھ؁ میں مدینہ پاک میں پیدا ہوئے،سولہ۱۶یا اٹھارہ مہینے زندہ رہےاورمنگل کے دن دس ربیع الاول یا جمادی الاول     ۱۰ ھ؁ میں وفات پائی،اس دن سورج کو گرہن لگا۔(لمعات و مرقات)اس سےمعلوم ہوا کہ ریاضی والوں کا یہ کہنا غلط ہے کہ سورج گرہن چاند کی ۲۷،۲۸ یا ۲۹ ہی ہوسکتا ہے۔

۲؎  یعنی دو رکعتیں پڑھائیں جس کی ہر رکعت میں تین رکوع اور دو سجدے کیے۔اس سے پہلےگزر چکا کہ ہر رکعت میں دو رکوع تھے۔

1486 -[7]

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: صلى الله عَلَيْهِ وَسلم حِين كسفت الشَّمْس ثَمَان رَكْعَات فِي أَربع سَجدَات

روایت ہےحضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب سورج گرہن لگا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں میں آٹھ رکوع سے نماز پڑھائی ۱؎

۱؎  یعنی دو رکعتیں پڑھائیں ہر رکعت میں چار رکوع اور دو سجدے انہی حضرت ابن عباس کی دو رکوعوں والی روایت اس سے پہلےگزرگئی۔ان کی احادیث میں تعارض ہے،لہذا کوئی روایت قابل عمل نہیں جیساکہ تعارض میں ہوتا ہے۔خیال رہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ شریف میں صرف ایک بار سورج گرہن ہوا ہے اور ایک ہی بار چاندگرہن اس لیے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ یہ مختلف واقعوں کا ذکر ہے ان میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی۔

1487 -[8]وَعَن عَليّ مثل ذَلِك. رَوَاهُ مُسلم

اسی طرح حضرت علی سے مروی ہے۔(مسلم)

 

1488 -[9]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنْتُ أرتمي بأسهم لي بالمدين فِي حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهَا. فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا حَدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ. قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ فَجعل يسبح ويهلل وَيكبر ويحمد وَيَدْعُو حَتَّى حَسَرَ عَنْهَا فَلَمَّا حَسَرَ عَنْهَا قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَكَذَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنْهُ وَفِي نُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ جَابِرِ بن سَمُرَة

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن سمرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی شریف میں مدینہ میں تیر اندازی کررہا تھا کہ سورج گرہن ہوگیا میں نےتیر تو پھینک دیئے اورسوچاکہ رب کی قسم میں دیکھوں گا کہ سورج گرہن میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا واقعہ پیش آیا۲؎  فرماتے ہیں میں وہاں آیا تو حضورنماز میں ہاتھ اٹھائے کھڑے تھے۳؎ تو آپ تسبیح،تہلیل وتکبیر اور حمد کہہ رہے تھے دعا مانگ رہے تھےحتی کہ سورج سے گرہن کھل گیا جب گرہن کھل گیا تو آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی۴؎ مسلم نے اپنی صحیحین میں عبدالرحمان بن سمرہ سے روایت کی اسی طرح شرح سنہ میں انہیں سے اور مصابیح کے نسخوں میں حضرت جابر ابن سمرہ سے۵؎

 



Total Pages: 519

Go To