Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1482 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ -[468]- الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثمَّ انْصَرف وَقد تجلت الشَّمْس فَقَالَ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ الله رَأَيْنَاك تناولت شَيْئا فِي مقامك ثمَّ رَأَيْنَاك تكعكعت؟ قَالَ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «إِنِّي أريت الْجنَّة فتناولت عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وأريت النَّار فَلم أر منْظرًا كَالْيَوْمِ قَطُّ أَفْظَعَ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ» . قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِكُفْرِهِنَّ» . قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ . قَالَ: " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَو أَحْسَنت إِلَى أحداهن الدَّهْر كُله ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْك خيرا قطّ "

روایت ہےحضرت عبداﷲ ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گھر گیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی آپ نے درازقیام کیاسورۂ بقرکی قرأت کے بقدر ۱؎ پھر دراز رکوع کیا پھر اٹھےتو بہت دراز قومہ کیا جو پہلے قیام سے کچھ کم تھا پھر دراز رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا پھر اٹھے پھر سجدہ کیا پھر قیام کیا تو بہت درازقیام فرمایا جوپہلےقیام سےکم تھا پھر دراز رکوع کیا جوپہلے رکوع سے کم تھا پھرسر اٹھایا تو درازقیام فرمایاجوپہلے قیام سےکم تھا پھر دراز رکوع کیا جوپہلے رکوع سےکم تھا پھر سر اٹھایا پھر سجدہ کیا ۲؎ پھر فارغ ہوئے جب کہ سورج صاف ہوچکا تھا۳؎ پھر فرمایا کہ سورج چاند اﷲ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں نہ توکسی کی موت کی وجہ سے گھٹتے ہیں نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے۴؎ جب تم یہ دیکھو تو اﷲ کا ذکر کرو۵؎ لوگوں نےعرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی اس جگہ میں کچھ لیا پھر دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹے فرمایا میں نے جنت ملاحظہ کی تو اس سے خوشہ لینا چاہا اگر لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک کھاتے رہتے۶؎ اورمیں نے آگ دیکھی تو آج کی طرح گھبراہٹ والا منظرکبھی نہ دیکھا میں نے زیادہ دوزخی عورتیں دیکھیں۷؎  لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ یہ کیوں فرمایاان کے کفر کی وجہ سے عرض کیا گیا کہ کیا اﷲ کی کافرہ ہیں فرمایا خاوند کی ناشکری ہیں احسان کی منکرہیں اگر تم ان سے زمانہ بھر تک بھلائی کرو،پھر تمہاری طرف سے کچھ ذرا سی بات دیکھ لیں تو کہیں کہ میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہ دیکھی ۸؎(مسلم، بخاری)

۱؎ یعنی اندازًا اتنا قیام۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرأت آہستہ تھی ورنہ آپ قیام کا اندازہ نہ لگاتےکسی صحابی سے پوچھ لیتے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی سورۃ پڑھی۔

۲؎  یہاں دونوں جگہ سجدے مراد ہیں جو عام طور پرنماز کی ہر رکعت میں کئے جاتے ہیں لہذا اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے ایک سجدہ کیا یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہر رکعت میں دو رکوع اور دوسجدے کیے،دو رکوع کی بحث ابھی گزرچکی۔

۳؎یعنی گرہن کا پورا وقت لمبی نماز میں گزار دیا اگر وقت کچھ بچ رہتا تو دعا میں گزارتے۔

۴؎  اس کلام شریف میں اس جہالت کے عقیدہ کا رد ہے جو اہلِ عرب میں پھیلا ہوا تھا اور اتفاقًا اس دن حضرت ابراہیم کا انتقال بھی ہوا تھا اس سے ان کے خیالات میں اورپختگی ہونے کا اندیشہ تھا اس لیےحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشادفرمایا۔

۵؎ کہ اگر نصف النہار کا وقت نہ ہو تو نمازگرہن پڑھو ورنہ تسبیح،تکبیر،استغفار اور باقی ذکر کرو۔سبحان اﷲ! کیا جامع کلام ہے۔

۶؎ یعنی جنت میرے سامنے آگئی یاجنت کے پاس ہم پہنچ گئے اور اسکے انگور کے خوشہ کو ہاتھ بھی لگادیا،قریبًا توڑ ہی لیا تھا،ارادہ یہ تھاکہ اس کا خوشہ تمہیں اورقیامت تک کے مسلمانوں کو دکھادیں اورکھلادیں مگر خیال یہ آگیا کہ پھر جنت غائب نہ رہے گی اور ایمان بالغیب نہ رہے گا۔خیال رہے کہ جنت کے پھلوں کوفنانہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اُکُلُہَا دَآئِمٌ"لہذا اگر وہ خوشہ



Total Pages: 519

Go To