$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1471 -[19]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ إِسْنَادُهُ ضَعِيف

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی زمانہ ایسا نہیں جس میں خدا تعالٰی کو اپنی بقرعید کے عشرہ کی عبادت سے زیادہ پیاری ہو اس زمانہ کے ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابرہوتاہے اور اس کی ہر رات کا قیام شبِ قدر کے قیام کے برابر ۱؎ (ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد ضعیف ہے ۲؎

۱؎ یہ حدیث بالکل اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں اتنے ثواب بخش دینا رب تعالٰی کےکرم سے بعید نہیں،کیوں نہ ہو کہ ان دنوں حضرت خلیل نے اپنے فرزند کی قربانی دی تھی اور حاجی حج بھی اسی زمانہ میں کرتے ہیں،اچھوں کی نسبت سے زمان اور زمیں بھی اچھے بن جاتے ہیں۔خیال رہے کہ اس حدیث سے دسویں بقرعید خارج ہے کہ اس دن روزہ حرام ہے۔

۲؎ کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قبول ہے،نیز بیہقی وغیرہ نے حضرت عبداﷲ ابن عباس سے اسی کی مثل روایت کی،اس کی وجہ سے یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1472 -[20] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن جُنْدُب بن عبد الله قَالَ: شَهِدْتُ الْأَضْحَى يَوْمَ النَّحْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعْدُ أَن صلى وَفرغ من صلَاته وَسلم فَإِذا هُوَ يرى لَحْمَ أَضَاحِيٍّ قَدْ ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ فَقَالَ: «مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ أَوْ نُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ ذَبَحَ وَقَالَ: «مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فليذبح باسم الله»

روایت ہے حضرت جندب ابن عبداﷲ سے فرماتے ہیں کہ میں بقرعید یعنی قربانی کے دن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضرہوا تو ابھی آپ نمازسے آگے نہ بڑھتے تھے نماز سے فارغ ہوتے ہی تھے سلام ہی پھیرا تھا کہ قربانیوں کے گوشت دیکھے جو آپ کے نماز سے فارغ ہونےسے پہلے ذبح کردی گئی تھیں ۱؎ تو فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے یا ہماری نماز سے پہلے ذبح کرلیا ہوتو وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقرعید کے دن نماز پڑھی پھرخطبہ پڑھا پھرقربانی کی اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کرلی وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے اورجس نے قربانی نہ کی ہوتو وہ اﷲ کے نام پر قربانی کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ غالبًا یہ جانور ان لوگوں نے ذبح کیے ہوں گے جن پر نمازعید نہ تھی یا نمازعید شروع ہونے سے پہلے ذبح کردی گئی ہوں گی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد نماز انہیں دیکھا ہوگا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ان ذبح کرنے والوں نے نماز عیدکیوں نہ پڑھی۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ لوگ پہلے ہی اور جگہ نمازعید پڑھ چکے ہوں گے کیونکہ اس زمانہ میں یہ نماز صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتی تھی،نیز اگر ایسا ہوتا تو سرکار قربانی لوٹانے کا حکم نہ دیتے۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html