Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1469 -[17]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحَى فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةٌ وَفِي الْبَعِيرِ عَشَرَةٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفرمیں تھے ۱؎ کہ بقرعید آگئی تو ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہوگئے ۱؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

۱؎  اس طرح کہ کسی جگہ پندرہ روز کی نیت سےٹھہر گئے تھے،ورنہ مسافر پر قربانی واجب نہیں،یا یہ قربانی استحبابًا کی گئی،جیسے بعض حجاج اپنے اور اپنے مرحوم عزیزوں کی طرف سے مکہ معظمہ میں قربانی دے دیتے ہیں۔

۲؎  اسحاق ابن راہویہ کا یہی مذہب ہے،ان کے علاوہ باقی تمام امام اس پرمتفق ہیں کہ اونٹ کی قربانی میں بھی سات ہی آدمی شریک ہوسکتے ہیں،یہ حدیث اس گزشتہ حدیث سےمنسوخ ہے جو پہلےگزرچکی کہ گائے اور اونٹ سات سات کی طرف سے جائزہے۔(لمعات)مرقات نے فرمایا کہ عبداﷲ ابن عباس کی بعض روایات میں یوں بھی ہے کہ ہم اونٹ میں سات یادس شریک ہوئے،لہذا شک کی بنا پر یہ حدیث قابل عمل نہیں،نیز یہ حدیث حسن غریب ہے اور سات کی روایات نہایت صحیح،لہذا اس کے مقابل یہ حدیث متروک ہے۔

1470 -[18]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ وَإِنَّهُ لَيُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ الله بمَكَان قبل أَن يَقع بِالْأَرْضِ فيطيبوا بهَا نفسا». رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہےحضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان بقرعید کے دن کوئی ایسی نیکی نہیں کرتا جو خون بہانے سے خدا کو زیادہ پیاری ہو ۱؎ یہ قربانی قیامت میں اپنے سینگوں بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گی ۲؎  اورخون زمین پرگرنے سے پہلے اﷲ کے ہاں قبول ہوجاتاہے لہذا خوش دلی سے قربانی کرو۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎ اس سےمعلوم ہوا کہ قربانی میں مقصود خون بہاناہےگوشت کھایا جائے یا نہ کھایا جائے لہذا اگر کوئی شخص قربانی کی قیمت ادا کردے یا اس سے دگنا تگنا گوشت خیرات کردے،قربانی ہرگز ادا نہ ہوگی اور کیوں نہ ہو کہ قربانی حضرت خلیل اﷲ کی نقل ہے،انہوں نے خون بہایا تھا گوشت یا پیسے خیرات نہ کیے تھے اورنقل وہی درست ہوتی ہے جو مطابق اصل ہو۔خیال رہے کہ اسلام سے پہلے قربانی کاگوشت کھاناحرام تھا اسے غیبی آگ جلاجاتی تھی مگر قربانی کا حکم تھا،اب کتنے بے وقوف ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں اتنی قربانیاں نہ کرو جن کا گوشت نہ کھایا جاسکے۔

۲؎ اور قربانی کرنے والے کے نیکیوں کے پلے میں رکھی جائے گی جس سے نیکیاں بھاری ہوں گی۔(لمعات)پھر اس کے لیئے سواری بنے گی جس کے ذریعہ یہ شخص بآسانی پل صراط سےگزرے گا اور اس کا ہرعضو مالک کے ہرعضو کافدیہ بنے گا۔(مرقاۃ)

۳؎ یعنی اور اعمال توکرنے کے بعد قبول ہوتے ہیں اورقربانی کرنے سے پہلے ہی،لہذا قربانی کو بیکارجان کر یاتنگ دلی سے نہ کرو ہر جگہ عقلی گھوڑے نہ دوڑاؤ۔

1471 -[19]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ إِسْنَادُهُ ضَعِيف

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی زمانہ ایسا نہیں جس میں خدا تعالٰی کو اپنی بقرعید کے عشرہ کی عبادت سے زیادہ پیاری ہو اس زمانہ کے ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابرہوتاہے اور اس کی ہر رات کا قیام شبِ قدر کے قیام کے برابر ۱؎ (ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد ضعیف ہے ۲؎

 



Total Pages: 519

Go To