Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1463 -[11]

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَلَّا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ والدارمي وانتهت رِوَايَته إِلَى قَوْله: وَالْأُذن

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں ہمیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم آنکھ،کان،دیکھ لیں ۱؎ نہ اگلے کان کٹے کی قربانی کریں نہ پچھلے کی نہ کان چرے کی نہ کان پھٹے کی۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی،ابن ماجہ)ابن ماجہ کی روایت أذن پرختم ہوگئی۔

۱؎ آنکھ کان سے مراد سارے اعضاء ظاہری ہیں قربانی کے لیئے وہ جانور خریدا جائے جس کے کسی عضو میں کوئی ایسا عیب نہ ہو جو اس کے حسن میں کمی پیدا کرے یا جسم میں نقصان،لہذا اندھا،کانا،لنگڑا،دم کٹا،بہت دبلا وغیرہ جانور قربان نہ کیا جائے ان عیوب کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھو۔

۲؎ لمبائی میں چرے کان کو شرقاء کہتے ہیں اور چوڑائی میں چرے کان کو خرقاء اس میں اکثر کان کا اعتبار ہے یعنی اگر آدھے سے زیادہ کان سلامت ہے اور آدھے سے کم چرا پھٹایا کٹا ہے تو اس کی قربانی جائز ہے اور اس کے برعکس کی ناجائز،یونہی سینگ ٹوٹے کا بھی حال ہے۔

1464 -[12]

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن نضحي بأعضب الْقرن وَالْأُذن. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ہم ٹوٹے سینگ اور کٹے کان والے کی قربانی کریں ۱؎(ابن ماجہ)

۱؎ کیونکہ اس سے جانور کے حسن میں کمی ہوتی ہے۔خیال رہے کہ بنڈے اور بوچے جانور کی قربانی جائز ہے،یعنی جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں یا کان چھوٹے ہوں کیونکہ اعضب وہ کہلاتا ہے جس کے کان یاسینگ کٹے ہوں،جس کے سینگوں کاچھلکا اتر گیا ہو،مغز باقی ہو اس کی قربانی جائزہے کیونکہ وہ بھی اعضب نہیں۔

1465 -[13]

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: مَاذَا يُتَّقَى مِنَ الضَّحَايَا؟ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَقَالَ: «أَرْبَعًا الْعَرْجَاءُ والبين ظلعها والعرواء الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تَنْقَى» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کن قربانیوں سے بچنا چاہیے تو آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا چار سے ۱؎ لنگڑے سے جس کا لنگ ظاہرہو،کا نے سے جس کانا پن ظاہرہو۲؎ بیمار سےجس کی بیماری ظاہر ہو اور دبلے سے جو ہڈی میں سپنگ نہ رکھتا ہو۳؎ (مالک، احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یہ چار اصولی عیب ہیں جس میں بہت سے فروعی عیب شامل ہیں،لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں زیادہ عیوب کا ذکر ہے۔

۲؎ یعنی وہ لنگڑا جانورجوقربانی گاہ تک نہ جاسکے اوروہ کانا جس کی ایک آنکھ کی روشنی بالکل جاتی رہی ہو اس سےکم لنگ اور ایک آنکھ میں معمولی پھلی وغیرہ کا ہونا مضر نہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To