$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1460 -[8]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشَرَةِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زمانہ کوئی نہیں جن میں نیکیاں رب کو اس دن سے زیادہ پیاری ہوں ۱؎ لوگوں نےعرض کیا یا رسول اﷲ نہ اﷲ کی راہ میں جہاد فرمایا نہ اﷲ کی راہ میں جہاد سوائے اس کے جو اپنا جان و مال لے کر نکلا اور کچھ واپس نہ لایا ۲؎(بخاری)

۱؎ یعنی بقر عید کے پہلے عشرہ میں رب تعالٰی کو بندوں کے نیک عمل بہت پیارے ہیں جن پر بہت ثواب دے گا کیونکہ یہ زمانہ حج کا ہے اور اسی عشرہ میں عرفہ کا دن ہے جو تمام دنوں سے بہتر ہے ماہ رمضان کی آخری دس راتوں میں نیکیاں بہت قبول ہیں کہ یہ زمانہ اعتکاف ہے اور اس میں شب قدر ہے،رب تعالٰی نے فرمایا:"وَ لَیَالٍ عَشْرٍ"دس راتوں کی قسم۔خیال رہے کہ دن تو بقرعید کے اول عشرہ کے افضل ہیں اور راتیں رمضان کے آخری عشرہ کی افضل،اسی لیے یہاں اَیَّام فرمایا گیا اور قرآن شریف میں لیال،لہذا قرآن وحدیث متعارض نہیں۔اس سےمعلوم ہوا کہ افضل دنوں میں عبادت بھی افضل ہے،اسی لیے شب معراج،شب برات،شبِ میلاد میں عبادات افضل ہیں کہ یہ افضل راتیں ہیں۔

۲؎  یعنی بقرعید کے پہلے عشرہ کے اعمال دوسرے زمانہ کے جہاد سے افضل ہیں،ہاں یہ جہاد جس میں غازی جان و مال سب کچھ قربان کردے یہ اس عشرہ کی نیکیوں سے افضل ہے۔معلوم ہوا کہ اس عشرہ کا جہادتو بہت ہی افضل ہوگا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1461 -[9]

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ موجئين فَلَمَّا وجههما قَالَ: «إِنِّي وجهت وَجْهي للَّذي فطر السَّمَوَات وَالْأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ ذَبَحَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَأَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيِّ: ذَبَحَ بِيَدِهِ وَقَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ من أمتِي»

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوخصی چتکبرے سینگ والے بکرے بقرعید کے دن ذبح کیے ۱؎ جب انہیں قبلہ رو لٹایا تو فرمایا کہ میں نے اپنے کو اس کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمان و زمین پیدا کیے دین ابراہیمی پر ہوں ہر بے دینی سے الگ مشرکوں میں سےنہیں ہوں۲؎ یقینًا میری نمازمیری قربانی میری زندگی اور میری موت رب العلمین کے لیئے ہے اس کا کوئی شریک نہیں مجھے اسی کا حکم ملا اور میں مطیعین سے ہوں۳؎ الٰہی  یہ تجھ سے ہے اورتیرے لیئے ہے محمدمصطفےٰصلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کی طرف سے۴؎ بسم اﷲ اﷲ اکبر،پھر ذبح فرمایا۔ (احمد، ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)اوراحمد،ابوداؤد و ترمذی کی دوسری روایت میں ہے کہ اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا اورکہا بسم اﷲ اکبر الٰہی  یہ میری طرف سے اور میرے اس امت کی طرف سے جو قربانی نہ کرسکے ۵؎

۱؎  مدینہ منورہ میں،کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقعہ پر تو سو اونٹ ذبح کیے تھے نہ دو بکرے اور مکہ معظمہ کی دوسری قربانیاں حضرت جابر نے دیکھی نہیں کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ انصاری ہیں،مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے



Total Pages: 519

Go To
$footer_html