Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1443 -[18]

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا مُوسَى وَحُذَيْفَةَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا تَكْبِيرَهُ على الجنازه. فَقَالَ حُذَيْفَة: صدق. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہےحضرت سعید ابن العاص سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازعیدوبقر عیدمیں تکبیریں کیسے کہتے تھے تو ابوموسیٰ نے فرمایا کہ آپ نمازجنازہ کی طرح چارتکبیریں کہتے تھے۲؎ حضرت حذیفہ نے کہا یہ سچے ہیں۔(ابوداؤد)

۱؎ آپ اموی ہیں،قرشی ہیں،اﷲ نے آپ کو اعلیٰ درجے کی سخاوت وفصاحت بخشی،عثمان غنی کے لیے مصحف قرآنی جمع کرنے والے آپ بھی تھے،آپ کا لب ولہجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہ تھا،جنگ بدر سے پہلے پیدا ہوئے،تابعی ہیں۔

۲؎ اس طرح کہ رکعت اول میں ایک تکبیرتحریمہ اورتین تکبیرعید اور دوسری رکعت میں تین تکبیرعید اور ایک تکبیر رکوع، یہی امام اعظم کا مذہب ہے۔ابن ہمام نے فرمایا کہ اس موقعہ پر ابوموسیٰ اشعری بولے کہ میں بصرےٰ میں یوں ہی تکبیریں کہاکرتا ہوں۔خیال رہے کہ یہ حدیث درحقیقت دوحدیثوں کا مجموعہ ہےکیونکہ حضرت حذیفہ کا تصدیق کرنا مستقل حدیث ہے، نیزحضرت ابن مسعود ہمیشہ چارتکبیریں کہتے تھے،آپ کا یہی مذہب ہے۔خیال رہے کہ تکبیرات عید میں مختلف روایتیں ہیں اسی لیے اس میں اماموں کے مذہب مختلف ہیں۔چنانچہ امام مالک،احمد کے ہاں اول رکعت میں چھ دوسری میں چار،امام شافعی کے ہاں اول میں سات دوسری میں پانچ،ہمارے ہاں دونوں میں تین تین،ہمارے امام سیدنا ابن مسعود ہیں اور امام شافعی کے مقتداءعبداﷲ ابن عباس،امام اعظم فرماتے ہیں کہ تکبیر اور رفع یدین خلاف متہود ہے اس لیے ہم نے کم کی روایت پرعمل کیا۔(اشعۃ اللمعات وغیرہ)

1444 -[19]

وَعَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُووِلَ يَوْمَ الْعِيدِ قَوْسًا فَخَطَبَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت براءسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عید کے دن کمان حاضر کی گئی آپ نے اس پر خطبہ پڑھا ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی کمان ہاتھ میں لےکر خطبہ پڑھا۔اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہےکہ جوشہر جنگ سے فتح ہوئے ہوں وہاں کمان یاتلوار پر خطبہ پڑھنا بہتر ہےاور جوشہرصلح سے حاصل ہوں وہاں عصاء پرخطبہ پڑھا جائے،لہذا یہ واقعہ مدینہ پاک کا نہیں ہے۔

1445 -[20]

وَعَنْ عَطَاءٍ مُرْسَلًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَطَبَ يَعْتَمِدُ عَلَى عنزته اعْتِمَادًا. رَوَاهُ الشَّافِعِي

روایت ہے حضرت عطا سے(ارسلًا)کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو اپنی لاٹھی پر ٹیک لگاتے تھے ۱؎(شافعی)

۱؎ یعنی مدینہ منورہ میں جمعہ یاعید کا خطبہ لاٹھی ہاتھ میں لےکر پڑھتے تھے کیونکہ یہ شہر جنگ سے فتح نہیں ہوا۔

1446 -[21]

وَعَن جَابر قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَّكِئًا عَلَى بِلَالٍ فَحَمَدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ على طَاعَته ثمَّ قَالَ: وَمَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى الله ووعظهن وذكرهن. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں عید کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا تو آپ نے خطبہ سے پہلے بغیراذان وتکبیرنماز شروع کی جب نماز پوری کرلی تو حضرت بلال پر ٹیک لگاکر کھڑے ہوگئے ۱؎ اور اﷲ کی حمدوثناءکی لوگوں کووعظ و نصیحت فرمائی اور انہیں رب کی اطاعت پر رغبت دی اور عورتوں کی طرف تشریف لے گئے آپ کے ساتھ بلال تھے۲؎ انہیں اﷲ سے ڈرنے کا حکم دیا اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی۔(نسائی)

 



Total Pages: 519

Go To