Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

839 -[18]

وَعَن عبيد الله بن أبي رَافع قَالَ: اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ فَقَرَأَ سُورَةَ (الْجُمُعَةِ)فِي السَّجْدَةِ الْأُولَى وَفِي الْآخِرَة: (إِذا جَاءَك المُنَافِقُونَ)فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْرَأ بهما يَوْم الْجُمُعَة. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبید اﷲ ابن ابی رافع سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مروان نے حضرت ابوہریرہ کو مدینہ منورہ پر اپنا خلیفہ بنایا اور خود مکہ معظمہ چلا گیا ۲؎ تب ہمیں حضرت ابوہریرہ نے جمعہ پڑھایا ۳؎ تو پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ پڑھی اور دوسری میں "اِذَا جَآءَکَ الْمُنٰفِقُوۡنَ" پھر فرمایا کہ میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن یہ سورتیں پڑھتے سنا۴؎(مسلم)

۱؎ آپ مدنی ہیں،مشہور تابعین میں سے ہیں،حضرت علی مرتضٰی کے کاتب تھے،آپ کے والد ابو رافع حضور کے آزاد کردہ غلام ہیں۔

۲؎ یعنی جب مروان مدینہ منورہ کا حاکم تھا تو ایک دفعہ اپنے زمانۂ حکومت میں خود حج کرنے گیا اور اپنی جگہ حضرت ابوہریرہ کو حاکم مدینہ بنایا گیا تب یہ واقعہ پیش آیا۔

۳؎ یعنی مروان اپنی موجودگی میں خود جمعہ پنجگانہ پڑھایا کرتا تھا کیونکہ امامت کا حق سلطانِ اسلام یا اس کے نائب کو ہے،جب حضرت ابوہریرہ حاکم اسلام مقرر ہوئےتب آپ نے جمعہ پڑھایا۔

۴؎ آپ جمعہ میں کبھی کبھی یہ سورتیں بھی پڑھتے تھے یہاں ہمیشگی کا ذکر نہیں لہذا یہ حدیث دیگر احادیث کے خلاف نہیں۔

840 -[19]

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى)و (هَل أَتَاك حَدِيث الغاشية)قَالَ: وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ قَرَأَ بِهِمَا فِي الصَّلَاتَيْنِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت نعمان بن بشیرسے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَیاور "ہَلْ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الْغٰشِیَۃِ" پڑھتے تھے۔فرماتے ہیں کہ جب عید اورجمعہ ایک دن میں جمع ہوجاتے تو یہ دونوں سورتیں دونوں نمازوں میں پڑھتے ۱؎(مسلم)

۱؎ عید میں بھی اور جمعہ میں بھی۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ایک عید اور جمعہ جمع ہوجائیں تو نماز عید کیوجہ سے نماز جمعہ معاف نہ ہوجائے گی یہ بدستور فرض رہے گی۔حضرت عثمان غنی نے جو اپنے دور خلافت میں نماز عیدکے بعد فرمایا تھا کہ جمعہ کی نماز کے لیے جو چاہے ٹھہرے جو چاہے چلا جائےیہ ان گاؤں والوں سے خطاب تھا جن پر نہ نماز عید واجب تھی اور نہ نمازجمعہ فرض،برکت کے لیے عید و جمعہ پڑھنے شہر آجاتے تھے لہذا ان کافرمان اس حدیث کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ عید و جمعہ کا اجتماع منحوس نہیں جیسا کہ آج کل جہلا نے سمجھ رکھا ہے بلکہ اس میں دو برکتوں کا اجتماع ہے اور حضور کے زمانہ میں ایسا ہواہے۔تیسرے یہ کہ ایک سورت دو نمازوں میں پڑھنا جائز ہے۔خیال رہے کہ یہاں بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا اکثری عمل مراد ہے دائمی نہیں ورنہ آپ سے نماز جمعہ و عیدین میں اور سورتیں پڑھنا بھی ثابت ہیں۔

841 -[20]

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ:(مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ: كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا: (ق وَالْقُرْآن الْمجِيد)و(اقْتَرَبت السَّاعَة)رَوَاهُ مُسلم

 روایت ہے حضرت عبید اﷲ سے کہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت ابو واقد لیثی سے پوچھا ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقر عیداور عید میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے ۲؎ انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں میں"قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیۡدِ"اور"اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ" پڑھتے تھے۔(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To