$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب صلوۃ الخوف

خوف کی نماز کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی جب بحالت جہاد یہ خوف ہوکہ اگر سب لشکر باجماعت نماز میں مشغول ہوا تو کفار ماردیں گے تب نماز باجماعت کس طرح پڑھی جائے اور اس پر قر یبًا ساری امت کا اجماع ہے کہ صلوۃ خوف تاقیامت باقی ہے ہاں طریقۂ ادا میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف بھی افضلیت میں ہے ورنہ جتنے طریقے احادیث میں آئے ہیں جس طرح اداکرے گا ہوجائے گی۔(مرقاۃ)نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار موقعوں پر نماز خوف پڑھی:ذات الرقاع،بطن نخل،عسفان،ذی قروع۔

1420 -[1]

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ فَصَافَفْنَا لَهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَنَا فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ وَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا مَكَانَ الطَّائِفَةِ الَّتِي لم تصل فجاؤوا فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بهم رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَرَوَى نَافِعٌ نَحْوَهُ وَزَادَ: فَإِن كَانَ خوف هُوَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ صَلَّوْا رِجَالًا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا قَالَ نَافِعٌ: لَا أُرَى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَ ذَلِكَ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت سالم ابن عبداﷲ ابن عمر سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کیا ۱؎ ہم دشمن کے مقابل کھڑے ہوئے اور انکے سامنے صفیں بنائیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کھڑے ہوئے ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور دوسری جماعت دشمن کے مقابل رہی۲؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رکوع کیا اور دوسجدے کیئے پھر یہ لوگ اس جماعت کی جگہ سے چلے گئے جس نے نماز نہ پڑھی تھی وہ ادھر آگئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھادی اور دو سجدےکرلیئے پھر آپ نے سلام پھیر دیا پھر ان میں سے ہر ایک کھڑا ہوا اور اپنی ایک رکعت پڑھ لی۳؎  اور دوسجدے کر لیئے۴؎ حضرت نافع نے یونہی روایت کی یہ زیادہ کیا کہ اگر خوف اس سے بھی زیادہ ہو تو غازی پیدل اپنے قدموں پر کھڑے کھڑے یا سوار نماز پڑھ لیں قبلے کو منہ ہو یا نہ ہو ۵؎ نافع کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ حضرت ابن عمر نے یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی روایت کی۶؎(بخاری)

۱؎ نجد کے لغوی معنی ہیں اونچی جگہ،لیکن اصطلاح میں عرب کے ایک صوبہ کا نام ہے،شیخ نے فرمایا کہ یہاں نجد،عراق اور حجاز مراد ہے نہ کہ نجدیمن۔

۲؎ یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر صحابہ کے دو حصےکردیئے ایک کو اپنے پیچھے کھڑا کیا ایک کو دشمن کے مقابل نہ کسی کو علیٰحدہ نماز پڑھنے کی اجازت دی نہ دوسری جماعت کرنے کی،نہ دوسرے امام کی اقتدا میں تاکہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی



Total Pages: 519

Go To
$footer_html