$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

نے فرمایا کہ آج کل جوبادشاہوں کے نام لینے،انہیں عادل کہنے،ان کی تعریفیں کرنے کا خطیبوں میں رواج ہے یہ حرام ہے کیونکہ اب بادشاہ ظالم ہیں اور ظالم کو عادل کہنا کفر ہے اور ان کی تعریفیں کرنا جھوٹ اور خوشامد،حتی کہ بعض امام فرماتے ہیں کہ اب خطیب سے دور بیٹھے تاکہ یہ جھوٹ اور فاسقوں کی تعریف نہ سنے۔

1414 -[14]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ اسْتَقْبَلْنَاهُ بِوُجُوهِنَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعودسے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پرکھڑے ہوتےتو ہم آپ کی طرف اپنے منہ کرلیتے ۱؎(ترمذی)اورترمذی نے فرمایاکہ اس حدیث کو ہم صرف محمد ابن فضل کی حدیث سے ہی پہنچانتے ہیں اور وہ ضعیف ہے حدیث بھول جاتاہے۔

۱؎ اس طرح کہ آپ کے سامنے والےتو روبقبلہ رہتے اور دائیں بائیں والے قبلہ سے کچھ پھرکر بیٹھتے تاکہ ان کا منہ امام کی طرف ہوجائے،لیکن اب سب ہی روبقبلہ بیٹھتے ہیں تاکہ صفیں سیدھی کرتے وقت دشواری نہ ہو۔

نوٹ:ہمارے ہاں امام کا منبر پرپہنچ کر مقتدیوں کو سلام کرنا منع ہے کیونکہ اس وقت مقتدی جواب نہ دے سکیں گے،امام شافعی کے ہاں جائز ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1415 -[15]

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ فَقَدَ وَالله صليت مَعَه أَكثر من ألفي صَلَاة. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتےہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ پڑھتے تھے ۱؎ پھر بیٹھ جاتے تھے پھرکھڑے ہوتے تو کھڑے کھڑے خطبہ پڑھتے جوتمہیں خبردے کہ آپ بیٹھ کرخطبہ پڑھتے تھے وہ جھوٹا ہے خدا کی قسم میں نے تو آپ کے ساتھ دو ہزار نمازوں سے زیادہ نمازیں پڑھیں ۲؎(مسلم)

۱؎ ہرخطبہ کے لیئے کھڑا ہونا سنت ہے خواہ خطبہ جمعہ وعیدین ہویاخطبہ وعظ یاخطبہ نکاح۔جوشہر جہاد سے فتح ہوئے ہیں وہاں تلوار لےکر خطبہ پڑھے اور جوبخوشی مسلمان ہوگئے وہاں خالی ہاتھ پڑھے۔(مرقات)دوسرے خطبہ کی آواز پہلے خطبہ سے کچھ کم ہو۔

۲؎ یعنی نماز پنجگانہ اتنی پڑھیں نہ کہ نماز جمعہ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریبًا پانچ سو جمعے پڑھے ہیں اس لیئے کہ جمعہ بعد ہجرت شروع ہوا جس کے بعد دس سال آپ کی زندگی شریف رہی،اس عرصہ میں جمعے اتنے ہی ہوتے ہیں۔(لمعات)

1416 -[16]

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمِّ الْحَكَمِ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَالَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا وَقد قَالَ الله تَعَالَى: (وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوك قَائِما)رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضر ت کعب ابن عجرہ سے کہ آپ مسجد میں آئے اور عبدالرحمان ابن ام حکم بیٹھ کر خطبہ پڑھ رہا تھا ۱؎ فرمایا کہ اس خبیث کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ پڑھ رہا ہے حالانکہ رب تعالٰی نے فرمایا کہ جب وہ تجارت یا کھیل کود دیکھتے ہیں تو ادھر دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۲؎ (مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html