Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1394 -[14]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن اونگھے تو اپنی جگہ سے ہٹ جائے ۱؎(ترمذی)

۱؎ یہ حکم استحبابی ہے اونگھ دفع کرنے کے لیئے یا یہ مطلب ہے کہ یہاں سے اٹھ جائے دوسری جگہ جا کر بیٹھ جائے یا یہ مطلب ہے کہ وضو کی جگہ جا کر ہاتھ منہ دھو آئے،مقصود تو نیند دفع کرنا ہے جیسےبھی ہوجائے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1395 -[15] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ نَافِعٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ. قِيلَ لِنَافِعٍ: فِي الْجُمُعَةِ قَالَ: فِي الْجُمُعَة وَغَيرهَا

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر کو فرماتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی کسی کو اس جگہ سے اٹھائے اور وہاں خود بیٹھ جائے ۱؎ نافع سے کہا گیا کہ کیا جمعہ میں فرمایا جمعہ میں اور غیر جمعہ میں ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ حدیث کی عبارت سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ دونوں کام الگ منع ہیں جو صرف اٹھائے مگر اس کی جگہ بیٹھے نہیں تو ایک گناہ کا مرتکب ہے اور جو بیٹھ بھی جائے وہ دوگنا کا۔اس حکم سے وہ صورتیں علیحدہ ہیں جہاں شرعًا اٹھانا جائز ہو۔امام اپنے مصلےٰ سے مؤذن اپنی تبکیر کی جگہ سے دوسرے کو ہٹا سکتا ہے،ایسے ہی اگر یہ جگہ پہلے سے کسی اور آدمی کی تھی وہ اپنا رومال یا پگڑی رکھ کر وضو کرنے گیا دوسرا اس کی جگہ بیٹھ گیا وہ اسے اٹھا سکتا ہے

۲؎ دوسری مجلسوں میں بھی۔خیال رہے کہ کسی کے گھر جا کر اس کی عزت کی جگہ نہ بیٹھو اگر تم بیٹھ گئے تو صاحبِ خانہ تمہیں وہاں سے اٹھاسکتا ہے کیونکہ یہ جگہ اس کی اپنی ہے اسی لیئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مِنْ مَقْعَدِہٖ فرمایا یعنی بیٹھے ہوئے کو اس کی اپنی جگہ سے نہ ہٹاؤ اور یہاں یہ جگہ اس کی تھی ہی نہیں۔

1396 -[16]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: فَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِلَغْوٍ فَذَلِكَ حَظُّهُ مِنْهَا. وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنعه. وَرجل حَضَره بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: (مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ  أَمْثَالِهَا. .)رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جمعہ میں تین طرح کے شخص آتے ہیں جو وہاں بیہودگی کے لیئے گیا تو اس کا یہی حصہ ہے ۱؎  اور جوشخص وہاں دعا کے لیئے حاضر ہوا تو یہ ایسا شخص ہے جس نے اﷲ سے دعا مانگی اگر چاہے دیدے چاہے منع کردے ۲؎ اور وہ شخص جو وہاں سننے اور خاموشی کے لیئے گیا نہ کسی مسلمان کی گردن پھلانگی اور نہ کسی کو ایذاء دی تو یہ جمعہ اگلے جمعے اور تین دن زیادہ کے لیے کفارہ۳؎ یہ اس لیے ہے کہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ جو نیکی لایا اس کے لیئے دس گنا ہیں۔(ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To