Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

کلام کرسکتا ہے جیسا کہ حضرت عمر فاروق نے حضرت عثمان سے خطبہ کی حالت میں پوچھا کہ دیر میں کیوں پہنچے اور صرف وضو کرکے کیوں آئے،غسل کیوں نہیں کیا۔غرضکہ سامعین کا اور حکم ہے خطیب کا اور حکم اور خطیب بھی تبلیغی کام کرسکتا ہے دنیوی نہیں۔مرقات نے فرمایا کہ خطبہ سے پہلے مؤذن کا لوگوں کو یہ حدیث پڑھ کر سنانا بدعت حسنہ ہے لیکن خطیب کا منبر پر پہنچ کر لوگوں کو سلام کرنا ناجائز۔یونہی خطبے کے دوران میں دعائیہ کلمات پر مؤذن کا اونچی آواز سے آمین کہنا منع۔خیال رہے کہ روافض اپنے خطبوں میں خلفائے راشدین کو گالیاں دیا کرتے تھے ان کے مقابلے میں ا ہل سنت ان کے نام لے کر ان پر درود بھیجتے ہیں۔حضرت عمر ابن عبدالعزیز نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ اہل بیت اطہار کو خطبہ میں گالیاں دیتے تھے تو انہوں نے یہ تلاوت فرمائی:"اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُ بِالْعَدْلِ وَالۡاِحْسٰنِ"الخ۔یہ سب بدعتیں ہیں مگر چونکہ انہیں مسلمان اچھا جانتے ہیں اس لیئے اچھی ہیں۔(مرقاۃ)اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو ہر بدعت کو حرام کہتے ہیں۔

1386 -[6]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ يُخَالِفُ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدَ فِيهِ وَلَكِن يَقُول: افسحوا ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جمعہ کے دن تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو نہ اٹھائے کہ پھر اس کی جگہ جا کر بیٹھ جائےہاں یہ کہہ دے کہ جگہ میں گنجائش کرو ۱؎(مسلم)

۱؎ کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنا ہمیشہ ہی منع ہے خصوصًا جمعہ میں زیادہ منع کہ اس دن ایک گناہ کا عذاب بھی ستر گناہ ہے،ہاں اگر کوئی خود ہی اپنے استاد یا شیخ کے لیئے جگہ چھوڑ دے تو ثواب کا مستحق ہے کہ دینی پیشوا کا احترام عبادت ہے۔حضرت صدیق اکبر نے عین نماز کی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے مصلی چھوڑ دیا اور مقتدی بن گئے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1387 -[7]

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «من اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ ثُمَّ صَلَّى مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ ثُمَّ أَنْصَتَ إِذا خرج إِمَام حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ جُمُعَتِهِ الَّتِي قَبْلَهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہےحضرت ابوسعید و ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو جمعہ کے دن غسل کرے وہ اپنے بہترین کپڑے پہنے ۱؎ اور اگر اس کے پاس خوشبو ہو لگائے۲؎ پھر جمعہ میں آئے تو لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے پھر جو اس کے مقدر میں لکھا ہے نماز پڑھ لے پھر جب امام نکلے تو خاموش رہے حتی کہ نماز سے فارغ ہوجائے ۳؎ تو اس جمعے اور اگلے جمعہ کے درمیان کا کفارہ ہوگا۔(ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To