Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1377 -[8]

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا عَلَى أَرْبَعَةٍ: عَبْدٍ مَمْلُوكٍ أَوِ امْرَأَةٍ أَوْ صَبِيٍّ أَوْ مَرِيضٍ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بني وَائِل

روایت ہےحضرت طارق ابن شہاب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جمعہ ہر مسلمان پرباجماعت حق ہے فرض ہے سوائے چار شخصوں کے مملوک غلام، عورت،بچہ،بیمار ۲؎(ابوداؤد)اورشرح سنہ میں بالفاظ مصابیح بنی وائل کے ایک شخص سے۔

۱؎ آپ قبیلہ احمس سےہیں،کوفی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے مگر فرمان بہت کم سنے،زمانہ صدیقی و فارقی میں۳۴غزوؤں میں شریک ہوئے،  ۸۲ھ؁ میں وفات پائی۔

۲؎ بیمار سے وہ بیمارمراد ہے جسےمسجد میں آنے میں حر ج ہو،یہ مطلب نہیں کہ سرمیں درد ہو جمعہ چھوڑ دو۔خیال رہے کہ حصر اضافی ہے ورنہ مجنون،مسافر،نابینا اور گاؤں والوں پربھی جمعہ فرض نہیں لیکن اگر یہ لوگ جمعہ پڑھ لیں تو ان کا فرض ادا ہوجائے گا اورظہر واجب نہ ہوگی۔خیال رہے کہ جمعہ کے لیے جماعت شرط ہے یعنی امام کے علاوہ تین آدمی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1378 -[9]

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحْرِقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتهم» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہےحضرت ابن مسعودسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوم کے متعلق فرمایا جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ کسی شخص کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر ان لوگوں پر جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں ان کے گھروں میں آگ لگا دوں ۱؎(مسلم)

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ فرض ہے۔یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو بلاعذر جمعہ نہیں پڑھتے جیسے اس زمانہ کے منافقین اور آج کل کے بہت سے غافل مسلمان۔اس حدیث کی شرح جماعت کے بیان میں گزرچکی۔

1379 -[10]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةُ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ كُتِبَ مُنَافِقًا فِي كِتَابٍ لَا يُمْحَى وَلَا يُبَدَّلُ».وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ ثَلَاثًا. رَوَاهُ الشَّافِعِي

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوبلاعذر جمعہ چھوڑ دے وہ اس کتاب میں منافق لکھا جائے گا جس میں نہ محو ہے نہ تبدیلی اوربعض روایات میں ہے کہ تین فرمایا ۱؎(شافعی)

۱؎ یعنی جوتین جمعے بلاعذرچھوڑے وہ منافق عمل ہوگا اور یہ نفاق اس پر ایسا لازم ہوگا کہ پھر اس سے نکلنا مشکل ہوگا۔اس حدیث کا مطلب ہے کیونکہ جمعہ چھوڑنا منافقوں کا سا کام ہے۔

1380 -[11]

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَعَلَيْهِ الْجُمُعَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا مَرِيض أَو مُسَافر أَوْ صَبِيٌّ أَوْ مَمْلُوكٌ فَمَنِ اسْتَغْنَى بِلَهْوٍ أَوْ تِجَارَةٍ اسْتَغْنَى اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حميد» . رَوَاهُ الدراقطني

روایت ہےحضرت جابرسے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اﷲ اورقیامت پر ایمان رکھتا ہو اس پر جمعہ کے دن نماز فرض ہے سواء بیمار یا مسافر یا عورت یا بچہ یا غلام کے ۱؎ جو کھیل کود یا تجارت کی وجہ سے لاپرواہ ہوجائے تو اﷲ اس سے لاپرواہ ہوجائے گا اﷲ بے پرواہ لائق حمدہے ۲؎(دارقطنی)

 



Total Pages: 519

Go To