$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب وجوبھا

جمعہ واجب ہونے کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  واجب سے مراد فرض ہے ۔فتح القدیر نے فرمایا کہ جمعہ دائمی فریضۂ اسلام ہے اور اس کی فرضیت ظہر سے زیادہ تاکیدی،جس کا منکر بالاتفاق کافر ہے،بعض بیوقوفوں نے اسے فرض کفایہ کہا یہ غلط محض ہے۔فرض کفایہ وہ ہے کہ سب پر فرض ہو مگر بعض کی ادا سے سب بری الذمہ ہوجائیں،جمعہ میں یہ بات نہیں،جمعہ دیہاتیوں وغیرہ پر فرض ہی نہیں اور جن پر فرض ہے ان سب کو پڑھنا پڑے گا۔جیسےنماز پنجگانہ حائضہ اور نفاس والی عورتوں پر فرض ہی نہیں مگر جن پر فرض ہے وہ سب پڑھیں، لہذا نہ نماز پنجگانہ کو فرض کفایہ کہہ سکتے ہیں اور نہ جمعہ کو۔

1370 -[1]

عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا قَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ: «لِيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن عمر وابوہریرہ سے وہ دونوں فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر کی لکڑیوں پر فرماتے سنا کہ لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز رہیں ورنہ اﷲ ان کے دلوں پر مہر کردے گا پھر وہ غافلوں سے ہوجائیں گے ۱؎(مسلم)

۱؎ یعنی جوسستی سے جمعہ ادا نہ کرے اس کے دل پر غفلت کی مہر لگ جائے گی جس کی وجہ سے ان کے دل گناہ پر دلیر ہوں گے اور نیکیوں میں سست۔خیال رہے کہ یہاں روئے سخن یا تو ان منافقوں کی طرف ہے جو جمعہ میں حاضر نہ ہوتے تھے یا آیندہ آنے والے مسلمانوں کی طرف ہے ورنہ کوئی صحابی تارک جمعہ نہ تھے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1371 -[2]

عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضُّمَيْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

روایت ہے حضرت ابوالجعدضمری سے ۱؎ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو تین جمعے سستی سے چھوڑ دے اﷲ اس کے دل پر مہر کردے گا۲؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ، دارمی)

۱؎ بعض لوگوں نے کہا کہ آپ کا نام وہب ہے،کنیت ابوجعد قبیلہ بنی ضمرہ ابن بکر ابن عبد مناف سے ہیں۔ان کے نام میں بڑا اختلاف ہے،آپ صحابی ہیں اور آپ سے ایک ہی حدیث منقول ہے،جنگ جمل میں شہید ہوئے۔

۲؎ سستی کی قید سے معلوم ہوا کہ معذور کا یہ حکم نہیں،مہر سے مراد غفلت کی مہر ہے نہ کہ کفر کی کیونکہ جمعہ چھوڑنا فسق ہے، کفر نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض گناہ دل کی سختی کاباعث ہیں اور گناہ صغیرہ بار بار کرنے سے گناہ کبیرہ بن جاتاہے۔

1372 -[3]وَرَوَاهُ مَالك عَن صَفْوَان بن سليم

1373 -[4] وَرَوَاهُ أَحْمد عَن أبي قَتَادَة

اور مالک نے صفوان ابن سلیم سے،احمد نے ابوقتادہ سے روایت کی۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html