Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

اس دن قدرتی طور پر اسلام کی دو عیدیں جمع تھیں۔عرفہ کا دن وہ عید اور جمعہ بھی عید۔خیال رہے کہ یہ آیت حج اکبر کے دن عرفات کے میدان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری۔اس سے معلوم ہوا کہ جن تاریخوں میں ا ﷲ کی نعمت ملے انہیں عید بنانا شرعًا اچھا ہے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ یہ سوال کرنے والے حضرت کعب احبار اور ان کی جماعت تھی جنہوں نے قبول اسلام سے پہلے یہ سوال کیا تھا۔

1369 -[16]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ» قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ: «لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ لَيْلَةٌ أَغَرُّ وَيَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمٌ أَزْهَرُ».رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب رجب آتا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے الٰہی  ہمیں رجب اور شعبان میں برکت دے ا ور ہمیں رمضان تک پہنچا ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضور فرماتے تھے جمعہ کی رات روشن رات ہے اور جمعہ کا دن چمک دار دن ہے ۲؎(بیہقی،دعوات کبیر)

۱؎  صوفیائے کرام فرماتے کہ رجب تخم بونے کا مہینہ ہے،شعبان پانی دینے اور رمضان کاٹنے کا،کہ رجب میں نوافل میں خوب کوشش کرو، شعبان میں اپنے گناہوں پر رؤو  اور رمضان میں رب تعالٰی کو راضی کرکے اس کھیت کو خیریت سے کاٹو،ان کے اس قول کا ماخذ یہ حدیث ہے یعنی رجب میں ہماری عبادتوں میں برکت دے ا ور شعبان میں خشوع و خضوع دے،اور مضان کا پانا اس میں روزے اور قیام نصیب کر۔

۲؎ لہذا  اس رات میں بھی خوب عبادت کرو اور دن میں بھی۔


 



Total Pages: 519

Go To