Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ صحابہ کرام مؤمنین علمائے بنی اسرائیل سے توریت شریف کی وہ  آیات سنا کرتے تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت میں ہیں تاکہ ان سے ایمان تازہ اور دل روشن ہو۔جن احادیث میں توریت پڑھنے سے حضرت عمر کو منع فرمایا گیا وہ توریت کی وہ ایات مراد ہیں جو اسلام کے خلاف ہیں یا اس سے ہدایت لینے کے لیئے پڑھنا مراد ہے،اب ہدایت صرف قرآن و حدیث میں ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔

۴؎ معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا علم دیا۔دوسری  روایت میں ہے کہ عاشورہ کے دن ہوگی مگر اس کا سنہ بتانے کی اجازت نہ تھی۔

۵؎ یعنی جمعہ کے دن ہر جانور منتظر ہوتا ہے کہ شاید آج قیامت ہو،جب بخیریت سور ج نکل آتا ہی تب سمجھتا ہے کہ آج قیامت نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جانوروں کوبھی یہ معلوم ہے کہ قیامت جمعہ کو آوے گی اور انہیں ہمارے دنوں کی بہت خبر رہتی ہے کہ آج فلاں دن ہے۔

۶؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بگڑی ہوئی توریت میں بھی جمعہ کے فضائل اور اس میں قبولیت کی ساعت کا ذکر تھا مگر حضرت کعب کی یاد نے غلطی کی کہ وہ سمجھے توریت میں یہ ہے کہ سال کے ایک جمعہ میں قبولیت کی ساعت ہوتی ہے،یہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا معجزہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چیزوں کی خبر دی تو جو توریت کے چوٹی کے عالم پر چھپی رہیں اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے بتادیں۔

۷؎ یہاں کذب بمعنی جھوٹ نہیں بلکہ بمعنی بھول جانا یا غلطی کرنا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ایک عالم کے غلط فتوے کو دوسرا عالم درست کرکے سائل کو بتاسکتا ہے کہ وہ غلط تھا۔

۸؎ سبحان اﷲ! یہ حضرات بالکل بے نفس تھے انہیں کسی کی ذات سے عناد نہ تھا اصل مسئلے سے بحث تھی۔امام بخاری نے بخاری شریف میں جو امام ابوحنیفہ پرسخت لہجہ میں اعتراضات کیئے ہیں انہیں بھی امام اعظم سے عناد نہ تھا وہ سمجھے کہ یہ مسائل غلط ہیں اور حدیث کے خلاف ہیں اسی لئے اس طرح اعتراضات کرگئے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے لہذا اب ہم امام بخاری کو برا نہیں کہہ سکتے۔

۹؎ تَضَنَّ ضَنٌ سے بنا،بمعنی بخل،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَاہُوَعَلَی الْغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ"۔خیال رہے کہ مال کے بخل سے علم کا بخل زیادہ برا کیونکہ علم خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں،ہاں یہ ضروری ہے کہ نااہل سے علم کے اسرار چھپاؤ کہ وہ غلط فہمی میں مبتلا ہوجائے گا۔

۱۰؎ غالب یہ ہے کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یہ فرمایا ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ توریت میں دیکھ کر یا اپنے بزرگوں سے سن کر  فرمایا ہو مگر پہلا احتمال زیادہ قوی ہے کیونکہ آپ کو اسلام لانے کے بعد توریت پر اعتماد نہ رہا تھا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر ایسا جرم کرسکتے تھے۔

۱۱؎ یعنی اس وقت نماز مکروہ ہے کہ نہ فرض جائز نہ نفل اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ اسے نماز پڑھتا ہوا پاتاہےجس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت نماز کا ہے،لہذا آپ کا قول اس حدیث کے مخالف معلوم ہوتا ہے۔

۱۲؎ یعنی تمہاری حدیث میں نماز سے حقیقی نماز مراد نہیں بلکہ حکمی نماز مراد ہے،چونکہ اس وقت مغرب قریب ہوتی ہے،لوگ مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھتے ہیں تو نماز ہی میں ہوتے ہیں،اب اگر دعا مانگ لیں تو نماز میں بھی ہیں اور دعا بھی مانگ رہے ہیں۔خیال رہے کہ اکثر علماء کا یہی قول ہے کہ یہ ساعت مغرب کے قریب ہوتی ہے۔بہتر یہ ہے کہ دو خطبوں کے درمیان بھی دعا مانگ لے اور خطبہ اور نماز کے درمیان بھی اور اس وقت بھی۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اس ساعت کے بارے میں چالیس قول ہیں۔

1360 -[7]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْتَمِسُوا السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَى فِي وَيَوْم الْجُمُعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

 روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ وہ ساعت جس کی جمعہ کے دن امید کی جاتی ہے وہ عصر کے بعد سے آفتاب ڈوبنے تک ڈھونڈو ۱؎(ترمذی)

 



Total Pages: 519

Go To