$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1357 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاه. وَزَاد مُسلم: «وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ».وَفِي رِوَايَةِ لَهُمَا قَالَ:«إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِم يُصَلِّي يسْأَل لاله يخرا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاه»

 روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جمعہ میں ایک گھڑی ہے جسے بندہ مؤمن نہیں پاتا کہ اس میں اﷲ سے خیر مانگے مگر اﷲ اسے وہ ضرور دیتا ہے ۱؎(مسلم، بخاری)مسلم نے زیادہ کیا فرمایا وہ چھوٹی سی گھڑی ہے۔ اور مسلم،بخاری کی ایک  روایت میں ہے کہ فرمایا جمعہ میں ایک ساعت ہے جسے مسلمان نہیں پاتا کہ کھڑا ہو ا نماز پڑھتا ہو اﷲ سے خیر مانگے مگر اﷲ اسے ضرور دیتا ہے۲؎

۱؎ یعنی وہ ساعت قبولیت دعا کی ہے،رات میں روزانہ وہ ساعت آتی ہے مگر دنوں میں صرف جمعہ کے دن۔یقینًا نہیں معلوم کہ وہ ساعت کب ہے۔غالب یہ ہے کہ دوخطبوں کے درمیان یا مغرب سے کچھ پہلے۔

۲؎ یعنی اس ساعت میں مسلمان کی دعا قبول ہوتی ہے نہ کہ کافر کی۔نمازی متقی کی دعا قبول ہوتی ہے نہ کہ فساق و فجار کی جو جمعہ تک نہ پڑھیں صرف دعاؤں پر ہی زور دیں۔یُصَلِّی میں اسی جانب اشارہ ہے ورنہ نماز کی حالت میں دعا کیسے مانگی جائے گی۔

1358 -[5]

وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي شَأْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ: «هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَى أَن تقضى الصَّلَاة» . رَوَاهُ مُسلم

 روایت ہے حضرت ابو بردہ ابن ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعے کی ساعت کے بارے میں فرماتے سنا کہ وہ امام کے بیٹھنے سے ادائے نماز کے درمیان ہے ۱؎(مسلم)

۱؎ یعنی جس وقت سے امام منبر پر خطبے کے لیئے بیٹھے اس وقت سے نماز جمعہ ختم ہونے تک قبولیت کا وقت ہے مگر اس وقت میں تیاریٔ نماز ہوتی ہے نہ کہ نماز،نیز دعا بزبان حال ہوگی نہ بزبان قال کیونکہ اس وقت نماز،کلام سب حرام۔خیال رہے کہ اس ساعت کے متعلق علماء کے چالیس قول ہیں جن میں دوقول زیادہ قوی ہیں:ایک اس وقت کا،دوسرے آفتاب ڈوبتے وقت کا۔حضرت فاطمہ زہراء اس وقت خود حجرے میں بیٹھتیں،اور اپنی خادمہ فضہ کو باہر کھڑا کرتیں،جب آفتاب ڈوبنے لگتا تو خادمہ آپ کو خبر دیتیں اس کی خبر پر سرکار اپنے ہاتھ اٹھاتیں۔"صَلَوٰتُ اﷲِ وَسَلَامُہٗ عَلیٰ اَبِیْھَاوَعَلَیْھَا وَعَلیٰ سَآئِرِ اَھْلِ بَیْتِ النُّبُوَّۃِ

الفصل الثانی

دوسری فصل

1359 -[6]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفَيْهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا من دَابَّة إِلَّا وَهِي مسيخة يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ وفيهَا سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يسْأَل الله شَيْئا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاهَا. قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ. فَقلت: بل فِي كل جُمُعَة قَالَ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْب وَمَا حَدَّثْتُهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ كَعْب: ذَلِك كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبَ كَعْبٌ. فَقُلْتُ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَة فَقلت لَهُ: فَأَخْبرنِي بهَا. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي وَتلك السَّاعَة لَا يُصَلِّي فِيهَا؟» فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ؟» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقلت: بلَى. قَالَ: فَهُوَ ذَاك. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى أَحْمد إِلَى قَوْله: صدق كَعْب

 روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں طور کی طرف گیا ۱؎ تو کعب احبار ۲؎ سے ملا ان کے پاس بیٹھا انہوں نے مجھے تورات کی باتیں سنائیں اور میں نے انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں۳؎ جو حدیثیں میں نے انہیں سنائیں ان میں یہ بھی تھا کہ میں نے کہا فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین وہ دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے،اسی میں اتارے گئے،اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی،اسی میں وفات پائی،اسی میں قیامت قائم ہوگی۴؎ ایسا کوئی جانور نہیں جو جمعہ کے دن صبح سے آفتاب نکلنے تک قیامت کا ڈرتے ہوئے منتظر نہ ہو ۵؎ جن و انس کے سواءاور اس میں ایک ایسی ساعت ہے جسے کوئی مسلمان نماز پڑھتے ہوئے نہیں پاتا کہ اﷲ سے کچھ مانگ لے مگر رب اسے دیتا ہے کعب بولے کہ یہ ہر سال میں ایک بار ہے میں نے کہا بلکہ ہر جمعہ میں ہے تو کعب نے توریت پڑھی تو بولے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ۶؎ ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں عبداﷲ ابن سلام سے ملا تو میں نے انہیں کعب کے پاس بیٹھنے اور جو کچھ میں نے ان سے جمعہ کے بارے میں گفتگو کی سنائی میں نے کہا کہ کعب بولے یہ ہر سال میں ایک دن ہے تو عبداﷲ ابن سلام نے فرمایا کہ کعب نے غلط کہا ۷؎ تب میں نے ان سے کہا پھر کعب نے توریت پڑھی تو فرمایا بلکہ وہ ہر جمعہ میں ہے تب عبداﷲ ابن سلام بولے کہ کعب نے سچ کہا ۸؎ پھر عبداﷲ ابن سلام نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ وہ کون سی ساعت ہے ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا وہ مجھے بتادیجئے اور بخل نہ کیجئے ۹؎ عبداﷲ ابن سلام نے فرمایا کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے ۱۰؎ ابوہریرہ فرماتے ہیں میں بولا کہ وہ جمعہ کی آخری ساعت کیسے ہوسکتی ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان بندہ اسے نماز پڑھتے ہوئے پائے ۱۱؎ عبدا ﷲ ابن سلام بولے کہ کیا رسول ا ﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جو کسی جگہ نماز کے انتظار میں بیٹھے تو وہ نماز پڑھنے تک نماز ہی میں ہے ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے کہا ہاں فرمایا وہ یہی ہے ۱۲؎(مالک، ابوداؤد،ترمذی،نسائی)اور احمد نے صدق کعب تک  روایت کی۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html