$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یعنی سفر میں نوافل سواری پر ادا فرماتے،ان کے لیئے سفر نہ توڑتے اور اس کی پرواہ نہ کرتے کہ رخ قبلہ کو ہویا نہ ہو،وہاں اس آیت پرعمل تھا"فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡافَثَمَّ وَجْہُ اللہِ"۔یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے جس میں حضرت ابن عمر نے سفر میں نفل پڑھنے والوں پر ناراضی کا اظہار کیا۔معلوم ہوا کہ وہاں مراد سفر توڑ کرنفل پڑھنا تھا۔

۲؎ یہ حکم اس وقت تھا جب وتر واجب نہ ہوئے تھے صرف سنت تھے،اب چونکہ وتر واجب ہیں لہذا وہ سواری پرنہیں پڑھے جاسکتے۔چنانچہ حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ آپ وتر کے لئے زمین پر اترتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کیا کرتے تھے،یہ واقعہ وتر کے وجوب کے بعد کا ہے۔(مرقاۃ)

الفصل الثانی

دوسری فصل

1341 -[9]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَرَ الصَّلَاةَ وَأَتَمَّ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا قصر اور اتمام سب کچھ کیا ۱؎(شرح سنہ)۲؎

۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں چار رکعت والی نمازوں میں قصر کیا اور دو رکعت والیوں میں اتمام یا بحالت سفرقصرکیا اورجہاں پندرہ روز قیام ہوا وہاں اتمام۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ سفر میں چار رکعت والی نمازوں میں کبھی قصر کرتے کبھی اتمام ورنہ یہ حدیث حضرت عائشہ کی اس روایت کے خلاف ہوگی جوبحوالہ مسلم،بخاری تیسری فصل میں آرہی ہے کہ سفر کی نماز پہلے فریضہ پر رکھی گئی۔

۲؎ نیز اسے شافعی اوربیہقی نے بھی روایت کیا مگر اسکی ساری اسنادوں میں ابراہیم ابن یحیی ہے جوسخت ضعیف ہے لہذا یہ حدیث قطعًا ضعیف ہے قابلِ حجت نہیں۔(لمعات و اشعۃ ومرقاۃ)

1342 -[10]

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ يَقُولُ: «يَا أَهْلَ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا سَفْرٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا اور آپ کے ساتھ فتح مکہ میں حاضرہوا تو آپ نے مکہ معظمہ میں اٹھارہ شب قیام کیا دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے فرمادیتے تھے اے شہر والو تم چار پڑھ لو ہم مسافر ہیں ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ اس کی شرح پہلےگزر چکی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ روز کی مستقل نیت نہ کی تھی جیساکہ غازی جہاد میں مذبذب رہتے ہیں کہ کب لوٹیں،ایسے ہی آپ بھی تذبذب میں رہے۔خیال رہے کہ یہاں اٹھارہ دن کا ذکر ہے اور حدیث ابن عباس میں جو ابھی گزر گئی انیس۱۹ دن کا ذکر تھا،یعنی رات اٹھارہ اور دن انیس تھے یا وہاں غزوہ طائف وغیرہ کا ذکر ہے۔بہرحال حدیث میں تعارض نہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ مسافر امام کو چاہیئے بعد نماز اپنے مسافر ہونے کا اعلان کردے تاکہ مقیم مقتدی اپنی رکعتیں پوری کرلیں۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html