$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب صلوۃ السفر

سفر کی نماز کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ سفر کے لغوی معنی ہیں کھلنا،ظاہرہونا اسی لیئے اجیالےکو اسفار کہتے ہیں اور کتابوں کے ڈھیرکو اسفار۔اس کا مقلوب فسْرہے،اس کے معنی بھی یہی ہیں،اس سےتفسیربنا،چونکہ سفر میں دوسرے مقامات کے حالات معلوم ہوتے ہیں اس لیئے اسے سفر کہتے ہے۔اصطلاح شریعت میں راستہ طے کرنے کی مخصوص صورت کا نام سفر ہے۔خیال رہے کہ سفر کے متعلق آئمہ دین میں چند اختلاف ہیں:ایک یہ کہ سفر کا فاصلہ کیا ہے؟ہمارے امام صاحب کے ہاں تین دن کی راہ یعنی ستاون میل۔ دوسرے یہ کہ قصر واجب ہے یا جائز؟ہمارے ہاں واجب ہے۔تیسرے یہ کہ اقامت کی کم مدت کیا ہےجس سے مسافر مقیم بن جائے؟ہمارے یہاں تین دن۔

1333 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْر بِذِي الحليفة رَكْعَتَيْنِ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعتیں پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعتیں پڑھیں ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ حجۃ الوداع کے سفر کا واقعہ ہے،چونکہ آپ مکہ معظمہ کے ارادے سے روانہ ہوئے تھے اس لیئے آبادیٔ مدینہ سے نکلتے ہی مسافر ہوگئے۔ذوالحلیفہ جو وہاں سے تین میل کے فاصلہ پر ہے وہاں قصر پڑھی۔اس زمانہ کے بعض عقلمندوں نے اس کا مطلب یوں سمجھا کہ انسان اگر سیرکرنے یا اپنا کھیت دیکھنے شہرسے باہر جائے تو مسافر ہے،یہ محض غلط ہے اس کی تردید آیندہ صفحات میں صراحۃً آرہی ہے۔خیال رہے کہ ذوالحلیفہ کا نام آج بیرعلی ہے،یہ اہلِ مدینہ کا میقات ہے،فقیر نے اس کی زیارت کی ہے۔ وہاں علی مرتضٰے کی مسجد آپ کا کنواں ہے اور چھوٹا ساکھجوروں کا باغ ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہاں حضرت علی نے جنات سے جنگ کی ہے اسی لیے اسے بیرعلی کہتے ہیں مگر یہ غلط ہے۔(مرقاۃ)

1334 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَكْثَرُ مَا كُنَّا قَطُّ وآمنه بمنا رَكْعَتَيْنِ

روایت ہےحضرت حارثہ ابن وہب خزاعی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منٰی میں دو رکعتیں پڑھائیں حالانکہ ہم اتنے زیادہ اور اتنے امن میں تھے جتنے کبھی نہ ہوئے تھے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی حجۃ الوداع میں ہم مسلمان ایک لاکھ سے زیادہ تھے ہماری اپنی بادشاہت تھی مگر اس کے باوجود ہم نے قصر کیا لہذا قرآن شریف میں جو قصر کے لیئے خوف کفار کی قید ہے وہ اتفاقی ہے احترازی نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مہاجر اپنے چھوڑے ہوئے وطن میں پہنچ کر مسافر ہوگا اور قصر کرے گا،دیکھو مکہ معظمہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا وطن تھا مگر آج حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں مسافر ہیں اور قصر پڑھ رہے ہیں۔بعض عشاق کہتے ہیں کہ مکہ میں حاجیوں کو مسافر بن کر رہنا اور مدینہ طیبہ میں مقیم ہوکر رہنا سنت ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html