Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ حضرت ابن عباس سے پوچھا گیا کہ اس نماز میں کون سی سورتیں پڑھنا افضل ہیں؟تو فرمایا تَکَاثُرْ،عَصْر،قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ اور قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ۔(ردالمحتار)

۴؎ ترمذی شریف میں بروایت عبداﷲ ابن مبارک یوں ہے کہ سبحان اﷲ پڑھ کر پندرہ بار یہ تسبیح کہے اور قرأت سے فارغ ہوکر دس بار یعنی قیام میں پچیس بار کہے پندرہ بارقرأت سے پہلے اور دس بار اس کے بعد ہر رکعت میں یوں ہی کرے۔احناف کے نزدیک اسی پرعمل ہے۔دوسرے سجدے سے اٹھتے وقت دس بار نہ کہے تاکہ رکن میں تاخیر نہ ہو۔

۵؎ یعنی دوسرےسجدے کے بعدقیام سےپہلے،مگر احناف کے ہاں اس موقعہ پر نہ پڑھے۔یہ دس بار قیام میں اداہوچکے۔اس طریقہ کی حدیث ترمذی شریف میں موجود ہے۔

۶؎ تاکہ کل تین سو بارہوجائیں۔اگرکسی رکن میں تسبیح پڑھنا بھول گیایاکم پڑھیں تو اس سےمتصل دوسرے رکن میں تعداد پوری کردے اوراگر اس نماز میں سجدہ سہو کرنا پڑگیا تو اس سجدے میں تسبیح نہ پڑھے۔(ردالمحتار)

۷؎ جس وقت چاہوغیرمکروہ وقت میں ادا کرو۔بہترہے کہ ظہر سے پہلے پڑھو۔

۸؎ جس دن چاہو،مگربہتر یہ ہے کہ جمعہ کے دن بعد زوال نماز سے پہلے پڑھےکیونکہ اس دن کی ایک نیکی ستر گناہ ہوتی ہے۔سیدنا عبداﷲ ابن عباس کا یہی قول ہے اور آپ کا اس پرعمل بھی تھا۔

۹؎ جب چاہولیکن اگر ماہ رمضان میں خصوصًا جمعہ کے دن یاستائیسویں رمضان پڑھے تو بہتر ہے۔

1329 -[2] وروى التِّرْمِذِيّ عَن أبي رَافع نَحوه

اور ترمذی نے ابورافع سے اس کی مثل روایت کی ۱؎

۱؎ بعض لوگوں نے اس حدیث کو موضوع بتایا مگر یہ غلط ہے اسے ابن خزیمہ اور حاکم نے صحیح کہا،امام عسقلانی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے،دارقطنی نے فرمایا کہ سورتوں کے فضائل میں یہ حدیث صحیح ترین ہے،عبداﷲ ابن مبارک فرماتے ہیں کہ نمازتسبیح رغبت کی بہترین نمازہے اس پرعمل چاہیے،شیخ فرماتے ہیں کہ ابن جوزی اس حدیث کو ضعیف یا موضوع کہتے ہیں،جلدبازہیں انہوں نے اسے ضعیف کہا۔

1330 -[3]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عمله صلَاته فَإِن صلحت فقد أَفْلح وأنجح وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْءٌ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: نظرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَيُكَمَّلُ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى ذَلِكَ ". وَفِي رِوَايَةٍ: «ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلَ ذَلِك ثمَّ تُؤْخَذ الْأَعْمَال حسب ذَلِك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بندے کا وہ عمل جس کا قیامت کے دن پہلے حساب ہوگا وہ اس کی نمازہے ۱؎ اگرنماز ٹھیک ہوگئی تو بندہ کامیاب ہوگیا اور نجات پاگیا اور اگر نماز بگڑ گئی تو محروم رہ گیا اور نقصان پاگیا اگر بندے کے فرضوں میں کمی ہوگی تو رب تعالٰی فرمائے گا کہ دیکھو کیا میرے بندے کے پاس کچھ نفل ہیں ان سے فرض کی کمی پوری کردی جائے گی۲؎ پھر بقیہ اعمال اسی طرح ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ پھر زکوۃ اسی طرح ہے پھر دوسرے اعمال اسی طرح کیے جائیں گے ۳؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To