Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

شہید ہوئے،عیاش ابن ابی ربیعہ ابوجہل کے سوتیلے بھائی تھے،پرانے مومن تھے،پہلے حبشہ،پھر مدینہ پاک کی طرف ہجرت کی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے ابو جہل ماں کی بیماری کا بہانہ بنا کر دھوکہ سے انہیں مکہ معظمہ لے گیا اور وہاں بھاری قیدوں میں گرفتار کردیا،آخر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے یہ بھاگ کر مدینہ پہنچے اور غزوہ تبوک میں شہید ہوئے۔(لمعات)

۳؎ یہ پکڑ کی تفسیر ہے،یعنی انہیں یوں پکڑ کر ان پر قحط سالی مسلّط کردے تاکہ تنگ آکر اسلام لے آئیں اور مشرکین مکہ اس بدعا کی وجہ سے سخت قحط سالی میں گرفتار ہوئے۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنی نفسیاتی وجہ سے بددعا نہ دی،اپنے ظالموں کو معاف کیا ا ور دعائیں دیں،ہاں دینی دشمنوں کو بددعائیں دی ہیں،یہاں اسی ہی بددعا کا ذکر ہے لہذا یہ حدیث نہ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے رحمۃً اللعالمین ہونے کے خلاف ہے اور نہ ان احادیث کے جن میں ارشاد ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کسی کو بددعا نہ کرتے تھے۔

۴؎ قنوت نازلہ کا بلند آواز سے پڑھنا منسوخ ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے اب اگر پڑھنا پڑےتو آہستہ پڑھے۔

۵؎ یعنی آپ بعض قبیلوں رعل و ذکوان وغیرہم کا نام لے کر ان پر لعنت فرماتے تھے، بعض نمازوں سے مراد نماز فجر ہے جیسا کہ دوسری روایات میں ہے اور اگر فجر کے سوا اور نمازیں مراد ہیں تو یہ بھی منسوخ ہیں۔

۶؎ یعنی اس آیت کے نزول سے قنوت نازلہ منسوخ ہوگئی۔معلوم ہوا کہ قرآن شریف سے حدیث منسوخ ہوسکتی ہے۔خیال رہے کہ قنوت نازلہ کا یا تو جہر منسوخ ہے یا ہمیشہ پڑھنا منسوخ،ورنہ ضرورت پر اب بھی آہستہ پڑھی جاسکتی ہے۔اس آیت کی تفسیر اور نسخ کی وجہ ہماری تفسیر حاشیۃ القرآن"نورالعرفان"میں ملاحظہ فرماؤ۔

1289 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن عَاصِم الْأَحول قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ فِي الصَّلَاةِ كَانَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: قَبْلَهُ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ الرُّكُوعِ شَهْرًا إِنَّهُ كَانَ بَعَثَ أُنَاسًا يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ سَبْعُونَ رَجُلًا فَأُصِيبُوا فَقَنَتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ

روایت ہے حضرت عاصم احول سے فرماتے ہیں میں نے انس ابن مالک سے نماز میں قنوت کے متعلق پوچھا کہ رکوع سے پہلے تھی یا بعد میں تو فرمایا پہلےتھی ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد تو صرف ایک ماہ قنوت پڑھی کہ آپ نے ایک لشکر بھیجا تھا جنہیں قراء کہا جاتا تھا ستر مرد تھے وہ شہیدکردیئے گئے ۲؎ تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک ماہ قنوت پڑھی ان پر بددعا کرتے ہوئے۔(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی وتر کی دعا قنوت ہمیشہ رکوع سے پہلے رہی کبھی رکوع کے بعد نہ پڑھی گئی،رکوع کے بعد والی قنوت یعنی قنوت نازلہ جو فجر میں تھی وہ صرف ایک ماہ رہی پھر منسوخ ہوگئی،لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔

۲؎ یعنی قنوت نازلہ کی وجہ ان ستر قاریوں کی شہادت تھی جو نہایت بیدردی سے قتل کیئے گئے تھے،یہ حضرات فقراء صحابہ تھے جو دن کو لکڑیاں جمع کرکے فروخت کرتے اور اس سے اصحاب صفہ کے لیئے کھانا تیار کرتے تھے،رات عبادت میں گزارتے۔انہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے نجدیوں کی تبلیغ کے لیئے بھیجا جب یہ بئرمعونہ پر پہنچے جو کہ مکہ معظمہ و عسفان کے درمیان ہے جہاں بنی ہزیل رہتے تھے تو عامر بن طفیل نے قبیلہ بنی سلیم،عصیب،رعل،ذکوان،قعرہ کے ساتھ ان لوگوں کو گھیرلیا اور سب کو شہید کردیا،صرف حضرت کعب ابن زید انصاری بچے جنہیں وہ مُردہ سمجھ کر سخت زخمی حالت میں چھوڑ گئے،پھر یہ غزوہ خندق میں شہید ہوئے،یہ واقعہ قتل    ۴ھ؁ میں ہوا،انہیں شہدا میں عامر ابن فہیرہ بھی تھے جنہیں فرشتوں نے دفن کیا،کسی کو ان کی نعش نہ ملی،اس واقعہ پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو سخت



Total Pages: 519

Go To