Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب القنوت

قنوت کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  عربی میں قنوت کے معنی اطاعت،خاموشی،دعا،نماز کا قیام ہیں،یہاں اس سے خاص دعا مراد ہے۔قنوتین دو ہیں:وتر کے قنوت جو ہمیشہ وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے پڑھے جاتے ہیں اورقنوت نازلہ جوکسی خاص مصیبت میں،وبائی امراض اور کفار سے جہاد کے موقعہ پر فجر کی نماز میں دوسری رکعت کے رکوع کے بعد آہستہ پڑھے جاتے ہیں،اس باب میں دونوں قنوتوں کا ذکر آئے گا۔احناف کے ہاں وتر کی دعائے قنوت مقرر ہے "اَللّٰھُمَّ اِنَّانَسْتَعِیْنُكَ"الخ جیسا کہ طبرانی وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اولًا نماز میں قبیلہ مضر پر بددعا کرتے تھے تو جبریل امین نے عرض کیا کہ رب نے آپ کو دعا کرنے کے لیئے پیدا کیا اور پھر یہ دعا سکھائی "اَللّٰھُمَّ اِنَّانَسْتَعِیْنُكَ"الخ۔یہ روایت جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب "عمل الیوم واللیلہ" میں بھی نقل کی ہے،نیز فتح القدیر نے ابوداؤد سے بھی روایت کی۔

1288 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلَى أَحَدٍ أَوْ يَدْعُوَ لِأَحَدٍ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَرُبَّمَا قَالَ إِذَا قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ: اللَّهُمَّ أَنْج الْوَلِيد بن الْوَلِيد وَسَلَمَة ابْن هِشَام وَعَيَّاش بن رَبِيعَةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ"يَجْهَرُ بِذَلِكَ وَكَانَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ: " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِأَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ:(لَيْسَ لَك من الْأَمر شَيْء)الْآيَة)

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بددعا یادعا کرنے کا ارادہ کرتے تو رکوع کے بعد قنوت پڑھتے ۱؎ بار ہا جب "سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ رَبَّنَالَكَ الْحَمْد" کہتے تو کہتے الٰہی  ولید ابن ولید سلمہ ابن ہشام عیاش ابن ربیعہ کو نجات دے ۲؎ الٰہی  سخت پامالی ڈال مضر پر اور اسے یوسف علیہ السلام کی قحط سالیوں کی طرح قحط سالی بنا۳؎ یہ بآواز بلند کہتے ۴؎ اور اپنی بعض نمازوں میں فرماتے الٰہی  فلاں فلاں عربی قبیلوں پر لعنت کر ۵؎ حتی کہ رب نے یہ آیت نازل فرمائی "لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ"۶؎(مسلم،بخاری)

۱؎ قنوت نازلہ جو فجر کے دوسرے رکوع کے بعدکسی خاص مصیبت کے موقع پر پڑھی جاتی ہے احناف بھی اسے ضرورۃً جائز کہتے ہیں۔

۲؎ اس جملہ میں دعا کا ذکر ہے اگلے میں بددعا کا یہ چاروں صحابہ مکہ معظمہ میں کفار کے ہاتھوں قید تھے،ولید ابن ولید مخزومی قرشی تھے،خالد ابن ولید کے بھائی جنگ بدر میں مسلمانوں کی قید میں آگئے تو حضرت خالد اور ہشام نے چار ہزار درہم دے کر چھڑالیا جب سب چھوٹ کر مکہ معظمہ پہنچے تو اسلام لائے اور فرمایا کہ میں قید میں اسلام اس واسطے نہ لایا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں قید سے ڈر کر اسلام لایا اس بنا پر ان کے بھائیوں نے انہیں قید کردیا اور سخت ایذائیں دیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیئے دعا کرتے تھے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے یہ چھوٹ کر مدینہ منورہ آگئے،سلمہ ابن ہشام ابن مغیرہ ابوجہل کے حقیقی بھائی تھے جو قدیم الاسلام صحابی تھے اور اسلام کی وجہ سے مکہ معظمہ میں سخت مصیبت میں گرفتار تھے آخر کار بھاگ کر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور عہدِ فاروقی میں جہاد میں



Total Pages: 519

Go To