Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

رکوع کردیا اس کے لیے یہ حدیث وبال جان بن جائے گی لہذا مذہب حنفی نہایت ہی قوی ہے اور یہ حدیث ان کے بالکل خلاف نہیں۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔

۲؎یعنی نمازی پر سورۂ فاتحہ پڑھنا بھی واجب ہے اور اس کے ساتھ کچھ اور تلاوت بھی واجب کہ اگر ان میں سے ایک پر بھی عمل نہ کیا گیا تو نماز ناقص ہوگی،یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے۔جو لوگ اس حدیث کی بنا پر ہرنمازی پر سورۂ فاتحہ پڑھنا فرض کہتے ہیں وہ فصاعدًا کے متعلق کیا کہیں گے کیونکہ ان کے ہاں سورۃ ملانا فرض نہیں۔

823 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثَلَاثًا غَيْرُ تَمَامٍ» فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّا نَكُون وَرَاء الإِمَام فَقَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «قَالَ اللَّهُ تَعَالَى قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ (الْحَمد لله رب الْعَالمين)قَالَ اللَّهُ تَعَالَى حَمِدَنِي عَبْدِي وَإِذَا قَالَ (الرَّحْمَن الرَّحِيم)قَالَ اللَّهُ تَعَالَى أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي وَإِذَا قَالَ (مَالك يَوْم الدّين) قَالَ مجدني عَبدِي وَقَالَ مرّة فوض إِلَيّ عَبدِي فَإِذا قَالَ (إياك نعْبد وَإِيَّاك نستعين)قَالَ هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ (اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالّين)قَالَ هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ» . رَوَاهُ مُسلم

 

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو نماز پڑھے اس میں الحمد نہ پڑھے تو وہ نماز ناقص ہے(تین بار)کامل نہیں ۱؎حضرت ابوہریرہ سے کہا گیا کہ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں فرمایا اپنے دل میں پڑھ لو ۲؎ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھوں آدھ بانٹ دیا ہے۳؎ اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جو مانگے ۴؎ بندہ کہتا ہے "الحمدﷲ رب العلمین"تو اﷲ تعالٰی فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی ۵؎ جب بندہ کہتا ہے "الرحمن الرحیم" تو اﷲ تعالٰی فرماتا ہے میرے بندے نے میری ثنا کی ۶؎ اور جب کہتا ہے"مالك یوم الدین"تو رب فرماتا ہے میرے بندے نے میری بندگی بیان کی ۷؎ اور جب کہتا ہے "ایاك نعبدو ایاك نستعین"تو رب فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے ۸؎ اور میرے بندے کے لیئے وہ ہے جو مانگے ۹؎ پھرجب کہتا ہے "اھدناالصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم۱۰؎ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین" تو فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو مانگے ۱۱؎(مسلم)

۱؎  یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے اس نے صراحتًابتادیا کہ بغیرسورۃ فاتحہ نماز فاسد نہیں ہوتی بلکہ ناقص ہوتی ہے یعنی سورۂ فاتحہ نماز میں فرض نہیں بلکہ واجب ہے،لہذا یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے۔

۲؎ یہ حضرت ابوہریرہ کی اپنی رائے ہے اسی لیے آپ اس پر کوئی حدیث مرفوع پیش نہیں فرماتے بلکہ ایک حدیث سے اس مسئلے کا استنباط کرتے ہیں ان کی رائے پر ہر جگہ عمل نہیں ہوسکتا،بعض جگہ بہت دشواریاں پیش آئیں گی مثلًا یہ کہ مقتدی امام کے پیچھے فاتحہ پڑھ رہا تھا یہ



Total Pages: 519

Go To