Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۵؎ یعنی نماز تہجد کی برکت سے دل میں خوشی،نفس میں پاکی نصیب ہوتی ہے جو اس سے محروم ہے وہ ان دونوں کے کمال سے محروم ہے۔ (مرقاۃ)اور جو نماز فجر سے غافل رہا اسے سستی بہت ہی ہوتی ہے،صبح کا اٹھنا تندرستی کی اصل ہے صبح سوتے رہنا بیماریوں کی جڑ ہے اسی لیئے سمجھ دار کفار بھی اندھیرے منہ جاگتے ہیں۔

1220 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكِ وَمَا تَأَخَّرَ؟قَالَ:«أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا»

روایت ہے حضرت مغیرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک قیام فرمایا کہ آپ کے قدم سوج گئے ۱؎ آپ سے عرض کیا گیا کہ ایسا کیوں کرتے ہیں آپ کے تو اگلے پچھلے بخش دیئے گئے ۲؎ تو فرمایا کیا میں بندہ شاکر نہ ہوؤں ۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ دراز قیام کے باعث یعنی تہجد میں اتنا دراز قیام فرمایا کہ کھڑے کھڑے قدم پر ورم آگیا یہ حدیث شبینہ پڑھنے والوں اور ان صوفیاکی دلیل ہے جو تمام رات نماز پڑھتے ہیں جیسے حضور غوث پاک اور امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہم اجمعین ان بزرگوں پر اعتراض نہ کرو۔

۲؎ یعنی یا حبیب اللہ اتنا لمبا قیام ہم لوگ کریں تو مناسب ہے کہ ہم گنہگار ہیں اللہ تعالےٰ اس کی برکت سے ہمارے گناہ بخش دے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے پھر اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ بخشنے کی بہت توجیہیں عرض کی جاچکی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے جو ابھی عرض کی گئی۔

۳؎ یعنی میری یہ نماز مغفرت کے لیئے نہیں بلکہ مغفرت کے شکریہ کے لیئے ہے۔خیال رہے کہ ہم لوگ عبد ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم عبدہٗ ہیں،ہم لوگ شاکر ہوسکتے ہیں حضور صلے اللہ علیہ وسلم شکور ہیں یعنی ہر طرح ہر وقت ہر قسم کااعلی شکرنے والے مقبول بندے۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ جنت کی لالچ میں عبادت کرنے والےتاجر ہیں،دوزخ کے خوف سے عبادت کرنے والے عبد ہیں مگر شکر کی عبادت کرنے والے احرار ہیں۔(ربیع الابرار و مرقاۃ)

1221 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقيل لَهُ مازال نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحَ مَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: «ذَلِكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ» أَو قَالَ: «فِي أُذُنَيْهِ»

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کا ذکر کیا گیا آپ سے عرض کیا گیا وہ صبح تک سوتا رہا نماز کے لیئے نہ اٹھا  ۱؎ آپ نےفرمایا کہ اس شخص کے کان میں شیطان نے پیشاب کردیا فرمایا دونوں کانوں میں ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ نماز تہجد کے لیئے یا نمازِ فجر کے لیئے پہلے معنی زیادہ مناسب ہیں کیونکہ صحابہ کرام فجر ہرگز قضاء نہ کرتے تھے اور ممکن ہے کسی منافق کا واقعہ ہو جو فجر میں نہ آتے تھے۔معلوم ہوا کہ نماز فجر میں نہ جاگنا بڑی نحوست ہے،نیز کوتاہی کرنے والوں کی شکایت اصلاح کی غرض سے کرنا جائز ہے غیبت نہیں۔

۲؎ حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے تاویل کی کوئی ضرورت نہیں۔شیطان کھاتا بھی ہے،پیتا بھی ہے،قے بھی کرتا ہے گوز بھی مارتا ہے لہذا پیشاب بھی کرتا ہے چونکہ کان ہی سے اذان کی آواز سنی جاتی ہے اس لیئے وہ خبیث غافل کے کان ہی میں موتتا ہے یعنی اسے ذلیل بھی کرتا ہے اور غافل بھی۔(لمعات)خیال رہے کہ یہ حکم ان لوگوں کے لیئے ہے جو اپنی کوتاہی کی وجہ سے صبح کو نہ جاگیں۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا تعریس کی رات صبح کو نہ جاگنا رب کی طرف سے تھا تاکہ امت کو نماز فجر قضاء پڑھنے کے احکام معلوم ہوں۔

 



Total Pages: 519

Go To