$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب التحریض علی قیام اللیل

باب رات میں اٹھنے کی ترغیب ۱؎

الفصل الاول

پہل فصل

۱؎  نماز تہجد کے فضائل بے شمار ہیں وہ وقت رب تعالٰی کی خاص رحمتیں اترنے کا ہے۔صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ نماز تہجد میں جنت کی لذتیں ہوتی ہیں۔(اشعہ)ایک دور تھا کہ جب مسلمان اپنے مفاد کو دوسروں کو ترجیح دیتے تھے اور آج وہ وقت ہے کہ لوگ دوسروں کے مفاد کو بھی اپنا بنانا چاہتے ہیں یہ ہے ہمارے معاشرے کی کمزوری اور اسکا سب سے بڑا سبب ہے روپیہ،پیسہ،بھوک،غریبی،مفلسی،محتاجی،

1219 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ عَلَى كُلِّ عُقْدَةٍ: عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ. فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طيب النَّفس وَإِلَّا أصبح خَبِيث النَّفس كسلانا "

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی سوتا ہے تو شیطان اس کے سر کی گدی پر تین گرہیں لگادیتا ہے  ۱؎ ہر گرہ پر یہ ڈالتا ہے کہ ابھی رات بہت ہے سوجا ۲؎ پھر اگر بندہ بیدار ہوجائے تو اﷲ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ۳؎پھراگر وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے پھر اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے۴؎ اور وہ خوش دل پاک نفس صبح کرتا ہے وگرنہ پلید طبیعت اور سست صبح پاتا ہے۵؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یہاں گرہ کے ظاہری معنی ہی مراد ہیں بلاوجہ تاویل کی ضرورت نہیں جادو گر دھاگے یا بالوں میں کچھ دم کرکے گرہ لگا دیتے ہیں جس کا اثر مسحور پر ہوجاتا ہے ایسے ہی شیطان انسان کے بالوں میں یا دھاگے میں صبح کے وقت غفلت کی تین گرہیں لگا دیتا ہے اسی لیئے صبح کے وقت بڑے مزے کی نیند آتی ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین گرہوں کے کھولنے کے لیئے تین عمل ارشاد فرمائے۔

۲؎ یعنی یہ لفظ کہہ کر دم کرتا ہے اور گرہ لگا دیتا ہے جس کے اثر سے انسان پر غفلت طاری ہوجاتی ہے۔مشائخ اﷲ کا ذکر کرکے دھاگے پر پھونکتے اور گرہ لگاتے ہیں پھر مریض کے گلے میں ڈال دیتے ہیں اس کا ماخذ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے۔معلوم ہوا کہ گنڈا حق ہے جس گنڈے کی حدیث شریف میں برائی آئی ہے وہ وہ گنڈا ہے جس پر شرکیہ الفاظ پڑھ کر دم کیا جائے۔

۳؎ یہاں اﷲ کے ذکر سے وہ ذکر مراد ہے جو اٹھتے ہی مومن کرتا ہے جن کا ذکر پہلے ہوچکا یہ ذکر اس جادو کا اتار ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور آپ پر درود شریف بھی اﷲ کا ذکر ہے اگر درود پر آنکھ کھلے تب بھی یہ ہی فائدہ ہوگا۔

۴؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں نماز سے تہجد کی نماز مراد ہے اسی لیئے صاحب مشکوٰۃ یہ حدیث تہجد کے باب میں لائے اور اگر کوئی نماز فجر کے لیئے اٹھے اور یہ عمل کرے تب بھی ان شاء اﷲ یہ فوائد ہوں گے۔بعض روایات میں ا سی جگہ عُقَدْ ہے عُقْدَہ کی جمع معنی یہ ہوئے کہ اگر نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں کیونکہ جب تیسری گرہ کھل گئی تو سب ہی کھل گئی یا چونکہ نمازی آدمی وضو بھی کرتا ہے ذکر اﷲ بھی لہذا نماز میں وہ  دونوں چیزیں آگئیں۔خیال رہے کہ جن عورتوں کی نماز معاف ہے وہ بھی معافی کے زمانہ میں جلد جاگیں،اﷲ کا ذکر کریں،وضو کرلیں تو بہت اچھا ورنہ تڑکے ہی منہ ہاتھ دھولیں۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html