Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب مایقول اذا قام من اللیل

باب جب رات میں اٹھے تو کیا کہے ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ اگرچہ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر سانس اﷲ کے ذکر میں نکلتی تھی مگر تہجد کو اٹھتے وقت بڑے پیارے پیارے ذکر فرماتے تھے کہ وہ وقت خصوصیت سے قبولیت کا ہے اور رحمت الٰہی  کے ظہور کا،یہاں وہ ذکر و دعائیں بیان ہوں گی جو نماز تہجد سے پہلے پڑھتے تھے ان کا کچھ ذکر پہلے باب میں بھی ہوچکا ہے اس باب میں تفصیلًا ذکر ہوگا لہذا یہ مکرر نہیں کہ وہاں اجمالی تھا،یہاں تفصیلی وہاں تبعًا تھا یہاں قصدًا۔

1211 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَقَوْلُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَلَا إِلَهَ غَيْرك»

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھنے اٹھتے تو کہتے الہی تیرے لیئے حمدہے تو  آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر والوں کا قائم رکھنے والا ہے ۱؎ تیرے ہی لیئے حمد ہے تو آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر والوں کا نور ہے ۲؎ اور تیری ہی حمد ہے تو  آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر والوں کا بادشاہ ہے ۳؎ اور تیری ہی حمد ہے تو حق ہے ۴؎ تیرا وعدہ حق ہے،تجھ سے ملنا حق ہے اور تیری بات حق ہے ۵؎ جنت حق ہے آگ حق ہے،نبی حق ہیں،جناب محمد حق ہیں۶؎ قیامت حق ہے،اے اﷲ تیرے لیئے میں اسلام لایا تجھ پر ایمان لایا ۷؎ اور تجھ پر میں نے بھروسہ کیا اور تیری طرف میں نے رجوع کیا ۸؎ تیرے بھروسے پر میں کفار سے لڑتا ہوں اور تجھ سے فیصلہ چاہتا ہوں ۹؎ میرے اگلے پچھلے چھپے کھلے بخش دے اور وہ بخش جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے بڑھانے والا ہے ۱۰؎ اور تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے ۱۱؎ تو ہی معبود ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۱۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ دعائیں نماز تہجد شروع کرنے سے پہلے ہیں وضو مسواک کے بعد یا ان سے بھی پہلے۔قیم قیوم مبالغہ کے صیغے ہیں یعنی آسمان و زمین اور ان کی مخلوق،جن و انس و فرشتوں وغیرہ کو قائم رکھتا ہے کہ ان سب کی بقا تیرے کرم سے ہے یعنی ان کا موجب بھی تو،باقی رکھنے والا بھی تو،اب ورب میں یہ فرق ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To