Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1195 -[8] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فَتَحَدَّثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَرَأَ: (إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَ اخْتِلَافِ اللَّيْل وَالنَّهَار لآيَات لأولي الْأَلْبَاب " حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ فَقَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ وَتَوَضَّأْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَتَامَّتْ صَلَاتُهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَآذَنَهُ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ فِي دُعَائِهِ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وتحتي نورا وأمامي نورا وَخَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا» وَزَادَ بَعْضُهُمْ: «وَفِي لِسَانِي نُورًا» وَذُكِرَ: " وَعَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشِعَرِي وبشري)وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» وَفِي أُخْرَى لِمُسْلِمٍ: «اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نورا»

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ کے پاس ایک رات گزاری جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے  ۱؎ تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر اپنے گھر والوں سے بات چیت کی پھر سوگئے ۲؎ توجب آخری تہائی رات ہوئی یا اس کا کچھ حصہ ۳؎ تو اٹھ بیٹھے آسمان کو دیکھا اور یہ آیت پڑھی بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن رات کے بدلنے میں عقل والوں کے لیئے نشانیاں ہیں حتی کہ سورہ ختم کردی۴؎ پھر مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے تو اس کی ڈوری کھولی پھر پیالے میں پانی انڈیلا پھر بہت اچھا درمیانی وضو کیا جس میں پانی زیادہ خرچ نہ کیا مگر ہر عضو پر پہنچادیا ۵؎ پھر کھڑے ہوئے تو نماز پڑھی میں بھی اٹھ بیٹھا اور میں نے وضو کیا اور آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرا کان پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف گھمالیا ۶؎ آپ کی نماز پوری تیرہ رکعتیں ہوئی،پھر لیٹ گئے سو گئے حتی کہ خراٹے لیئے اور آپ جب سوتے خراٹے لیتے تھے ۷؎ پھر آپ کو حضرت بلال نے نماز کی اطلاع دی تو نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۸؎ اور آپ کی دعا میں یہ تھا الٰہی  میرے دل میں نور اور میری آنکھوں میں نور میرے کانوں میں نور ۹؎ میرے دائیں نور میرے بائیں نور،میرے اوپر نور میرے نیچے نور میرے آگے نور میرے پیچھے نور کردے اور مجھے نور بنادے ۱۰؎بعض محدثین نے یہ بھی زیادہ کیا کہ میری زبان میں نور اور پٹھے گوشت خون بال کھال کا بھی ذکر کیا۔(مسلم،بخاری)اور ان کی ایک روایت میں ہے ۱۱؎ کہ میرے دل میں نور کر اور میرا نور بڑھا اور مسلم کی دوسری روایت میں ہے الٰہی  مجھے نور دے۔

۱؎ یعنی اس دن حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا کی باری تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں قیام تھا،حضرت ابن عباس کا وہاں آج رات ٹھہرنا بھی اسی نیت سے تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے اعمال کا نظارہ کرلیں(واہ رے قسمت والو)۔

۲؎ یہ گفتگو دینی تھی یا دنیاوی مگر مختصر تھی،جن روایات میں ہے کہ بعد عشاء حضور صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو ناپسند فرماتے تھے وہ دراز گفتگو ہے جس سے نماز فجر میں خلل واقع ہو لہذا  احادیث متعارض نہیں جو چیز فرض یا واجب میں حارج ہو وہ ممنوع ہے۔معلوم ہوا کہ بیوی سے کچھ بات چیت کرنا بھی حسن اخلاق سے ہے اس سے اس کا دل خوش ہوتا ہے۔

۳؎ یعنی رات کا آخری چھٹا حصہ،یہ وقت بہت برکت والا اور قبولیت دعا والا ہے۔

۴؎ بعض روایات میں ہے کہ پانچ آیات پڑھیں"اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیۡعَادَ" تک ہوسکتا ہے کہ کبھی آخری سورۃ  تک پڑھی ہوں اور کبھی پانچ آیات لہذا  احادیث میں تعارض نہیں۔

۵؎ یہ درمیانی وضو کی تفسیر ہے یعنی اگرچہ پانی کم خرچ کیا مگر ہر عضو پر پانی بہہ گیا کوئی جگہ خشک نہ رہی۔

 



Total Pages: 519

Go To