Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1191 -[4]

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا الْوتروركعتا الْفجْر.رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں ۱۳ رکعتیں پڑھتے تھے جن میں وتر بھی ہیں اور فجر کی سنتیں بھی ۱؎(مسلم)

۱؎ لہذا تہجد آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور وتر تین رکعت پھر سنت فجر دو رکعت،تہجد کی آٹھ رکعتیں اکثری عمل تھا۔

1192 -[5]

وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ. فَقَالَت: سبع وتسع وَإِحْدَى عشر رَكْعَة سوى رَكْعَتي الْفجْر. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت مسروق سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ سات نو گیارہ رکعتیں تھیں ۲؎ سنت فجر کے علاوہ(بخاری)

۱؎ آپ مسروق ابن اجدع ہمدانی کو فی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے اسلام لائے مگر زیارت نہ کرسکے،لہذا تابعی ہیں،بچپن میں آپ کو چرالیا گیا تھا اس لیئے آپ کو مسروق کہتے ہیں،بڑے متقی عالم ہیں،   ۲۶ھ؁ مقام کوفہ وفات ہوئی وہیں مزار ہے۔(اکمال)

۲؎ یعنی کبھی تہجد چار رکعت اور وتر تین رکعت پڑھتے تھے اور کبھی تہجد چھ رکعت اور وتر تین رکعت اور کبھی تہجد آٹھ رکعت اور وتر تین رکعت پڑھتے تھے آخری عمل زیادہ تھا،چونکہ تہجد کی نماز سرکار گھرمیں ادا کرتے تھے اس لیئے اس سے ازواج پاک خصوصا ً حضرت عائشہ صدیقہ زیادہ واقف تھیں اسی بناء پر آپ سے زیادہ پوچھا جاتا تھا۔

1193 -[6]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِيُصَلِّيَ افْتتح صلَاته بِرَكْعَتَيْنِ خفيفتين.رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں نماز پڑھنے اٹھتے تو اپنی نماز دو ہلکی رکعتوں سے شروع فرماتے ۱؎(مسلم)

۱؎ یہ دو رکعتیں تحیۃ الوضو ہیں جو تہجد کے علاوہ ہیں ان کا پڑھنا اور ہلکا پڑھنا مسنون ہے بشرطیکہ کامل پڑھے۔

1194 -[7]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَحِ الصَّلَاة بِرَكْعَتَيْنِ خفيفتين. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم سے کوئی رات میں کھڑا ہو تو نماز دو ہلکی رکعتوں سے شروع کرے ۱؎(مسلم)

۱؎ یہ امر استحبابی ہے لہذا مستحب یہ ہے کہ تہجد سے پہلے دو رکعت تحیۃ الوضو ہلکی مگر کامل پڑھے اور تہجد دراز۔

1195 -[8] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فَتَحَدَّثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَرَأَ: (إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَ اخْتِلَافِ اللَّيْل وَالنَّهَار لآيَات لأولي الْأَلْبَاب " حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ فَقَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ وَتَوَضَّأْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَتَامَّتْ صَلَاتُهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَآذَنَهُ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ فِي دُعَائِهِ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وتحتي نورا وأمامي نورا وَخَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا» وَزَادَ بَعْضُهُمْ: «وَفِي لِسَانِي نُورًا» وَذُكِرَ: " وَعَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشِعَرِي وبشري)وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» وَفِي أُخْرَى لِمُسْلِمٍ: «اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نورا»

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ کے پاس ایک رات گزاری جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے  ۱؎ تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر اپنے گھر والوں سے بات چیت کی پھر سوگئے ۲؎ توجب آخری تہائی رات ہوئی یا اس کا کچھ حصہ ۳؎ تو اٹھ بیٹھے آسمان کو دیکھا اور یہ آیت پڑھی بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن رات کے بدلنے میں عقل والوں کے لیئے نشانیاں ہیں حتی کہ سورہ ختم کردی۴؎ پھر مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے تو اس کی ڈوری کھولی پھر پیالے میں پانی انڈیلا پھر بہت اچھا درمیانی وضو کیا جس میں پانی زیادہ خرچ نہ کیا مگر ہر عضو پر پہنچادیا ۵؎ پھر کھڑے ہوئے تو نماز پڑھی میں بھی اٹھ بیٹھا اور میں نے وضو کیا اور آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرا کان پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف گھمالیا ۶؎ آپ کی نماز پوری تیرہ رکعتیں ہوئی،پھر لیٹ گئے سو گئے حتی کہ خراٹے لیئے اور آپ جب سوتے خراٹے لیتے تھے ۷؎ پھر آپ کو حضرت بلال نے نماز کی اطلاع دی تو نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۸؎ اور آپ کی دعا میں یہ تھا الٰہی  میرے دل میں نور اور میری آنکھوں میں نور میرے کانوں میں نور ۹؎ میرے دائیں نور میرے بائیں نور،میرے اوپر نور میرے نیچے نور میرے آگے نور میرے پیچھے نور کردے اور مجھے نور بنادے ۱۰؎بعض محدثین نے یہ بھی زیادہ کیا کہ میری زبان میں نور اور پٹھے گوشت خون بال کھال کا بھی ذکر کیا۔(مسلم،بخاری)اور ان کی ایک روایت میں ہے ۱۱؎ کہ میرے دل میں نور کر اور میرا نور بڑھا اور مسلم کی دوسری روایت میں ہے الٰہی  مجھے نور دے۔

 



Total Pages: 519

Go To