Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1174 -[16]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھے اﷲ اس کے لیئے جنت میں گھر بنائے گا ۱؎(ترمذی)

۱؎ گھر بنانے کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ یہ ۲۰ رکعتیں بھی نماز اوابین ہی ہیں کہ اس کی رکعتیں کم از کم دو ہیں زیادہ سے زیادہ ۲۰ اس حدیث کو محدثین نے بہت سی اسنادوں سے نقل کیا لہذا صلوۃ اوّابین کی حدیث ضعیف نہ رہی۔

1175 -[17]

وَعَنْهَا قَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صلى أَربع رَكْعَات أَو سِتّ رَكْعَات. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی عشاء نہ پڑھی،جس کے بعد میرے پاس تشریف لائے مگر چار یا چھ رکعتیں پڑھ لیں ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ دو مؤکدہ اور ان کے بعد دو یا چار غیرمؤکدہ،چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر اور بعد کی دو نفلیں تہجد کے ساتھ پڑھتے تھے اس لیئے یہاں ان کا ذکر نہ ہوا۔لمعات وغیرہ میں ہے کہ یہاں عشاء سے مراد پہلی عشاء یعنی مغرب ہے اور نفلوں سے مراد نماز اوابین ہے۔اس صورت میں نماز اوابین کی یہ ایک اور حدیث ہوگی۔

1176 -[18]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم:«إدبار النُّجُوم الركعتان قبل الْفجْر وأدبار السُّجُود الركعتان بعد الْمغرب». رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاروں کے بعد دو رکعتیں ہیں فجر سے پہلے اور سجدوں کے بعد دو رکعتیں مغرب کے بعد ۱؎(ترمذی)

۱؎ اس میں سورۂ طور اور سورۂ قٓ کی دو آیتوں کی طرف اشارہ ہے"وَ مِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحْہُ وَ اِدْبٰرَ النُّجُوۡمِ" اور  دوسری آیت "فَسَبِّحْہُ وَ اَدْبٰرَ السُّجُوۡدِ"حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شرح یہ فرمائی کہ پہلی آیت میں فجر کی دو سنتیں مراد ہیں کیونکہ وہ تارے ڈوبنے کے بعد ہی پڑھی جاتی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ فجر اجالے میں پڑھنی چاہیے نہ کہ اندھیرے میں کیونکہ اس وقت تارے ظاہر ہوتے ہیں چھپے نہیں ہوتے ۔"وَ اَدْبٰرَ السُّجُوۡدِ" سے مراد مغرب کے فرض ہیں ان آیتوں کی اور بہت تفسیریں کی گئی ہیں مگر یہ تفسیر قوی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔

 

الفصل الثالث

تیسری فصل

1177 -[19]

عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: " أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ بَعْدَ الزَّوَالِ تُحْسَبُ بِمِثْلِهِنَّ فِي صَلَاةِ السَّحَرِ. وَمَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَهُوَ يُسَبِّحُ اللَّهَ تِلْكَ السَّاعَةَ ثُمَّ قَرَأَ: (يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَ الشَّمَائِلِ سُجَّدًا لَهُ وهم داخرون)رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ظہر کے پہلے زوال کے بعد چار رکعتیں نماز تہجد کی اتنی رکعتوں کے برابر رکھی جاتی ہیں ۱؎ اور نہیں ہے کوئی چیز مگر وہ اس گھڑی اﷲ کی تسبیح کرتی ہے پھر تلاوت فرمائی کہ مائل ہوتے ہیں ان کے سائے دائیں بائیں اﷲ کو سجدہ کرتے عاجز ہو کر ۲؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)

 



Total Pages: 519

Go To