Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1160 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ "

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں ظہر سے پہلے ۱؎ اور دو رکعتیں اس کے بعد دو رکعتیں مغرب کے بعد گھر میں اور دو رکعتیں عشاء کے بعد گھر میں پڑھیں ۲؎ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت حفصہ نے خبردی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر طلوع ہوتی تو دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہاں ساتھ پڑھنے سے مراد جماعت سے پڑھنا نہیں کیونکہ سوائے تراویح باقی سنن کی جماعت مکروہ ہے بلکہ ہمراہی میں پڑھنا مراد ہے یعنی میں نے بھی پڑھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جیسے رب بلقیس کا قول یوں نقل فرماتا ہے:"اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ" اس حدیث کی بنا پر امام شافعی نے ظہر سے پہلے دو سنتیں مؤکدہ مانیں،ہمارے ہاں مؤکدہ چار ہیں جیسا کہ بہت سی احادیث میں ہے یہاں تحیۃ المسجد کے نفل مراد ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سنت ظہر گھر میں ادا کرکے تشریف لاتے تھے۔چنانچہ ازواج مطہرات کی روایت یوں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے چار سنتیں کبھی نہ چھوڑتے تھے۔

۲؎ یعنی میں نے مغرب و عشاء کے بعد کی سنتیں حضور کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پڑھیں اس گھر سے مراد حضرت حفصہ بنت عمر کا گھر ہے،چونکہ وہ آپ کی ہمشیرہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ پاک تھیں اس لیئے آپ کو وہاں جانا درست تھا ۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ سنتیں گھر میں پڑھنا افضل ہے۔

۳؎  معلوم ہوا کہ سنت فجر جو گھر میں پڑھے اور ہلکی پڑھے۔بعض صوفیاء اس کی رکعت اول میں الم نشرح اور دوسری میں الم تر کیف پڑھتے ہیں بعد میں ۷۰ بار استغفار پھر مسجد میں آکر باجماعت فرض،اس عمل سے بواسیر سے امن رہتی ہے،گھر میں برکت و اتفاق،چونکہ حضرت ابن عمر اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نہ ہوتے تھے اس لیئے حضرت حفصہ سے روایت کی۔

1161 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فِي بَيته

روایت ہے انہی سے کہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد نماز نہ پڑھتے حتی کہ لوٹ آتے تھے۔پھر اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے ۱؎(بخاری،مسلم)

۱؎ جمعہ کے دن بعد کے متعلق تین روایتیں ہیں،دو پڑھتے تھے،چار پڑھتے تھے، چھ  پڑھتے تھے پہلی روایت پر امام شافعی کا عمل ہے،دوسری پر امام اعظم کا تیسری پر ابویوسف کا چار کی روایات بھی آرہی ہیں۔

 1162 -[4]

وَعَن عبد الله بن شَقِيق قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَطَوُّعِهِ فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَدْخُلُ فَيصَلي رَكْعَتَيْنِ وَيُصلي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوَتْرُ وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدا وَكَانَ إِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِم وَإِذا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاة الْفجْر

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن شقیق سے  ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے فرمایا کہ آپ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے پھر تشریف لے جاتے لوگوں کو نماز پڑھاتے اور میرے گھر میں تشریف لاتے تو دو رکعتیں پڑھتے اور لوگوں کو نماز مغرب پڑھاتے پھر تشریف لاتے تو دو رکعتیں پڑھتے پھر لوگوں کو عشاء پڑھاتے اور میرے گھر میں تشریف لاتے تو دو رکعتیں پڑھتے ۲؎ اور رات میں نو رکعتیں پڑھتے تھے جن میں وتر بھی ہیں ۳؎ اور رات میں بہت دیر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور بہت دیر تک بیٹھ کر ۴؎ اور جب کھڑے ہوتے قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی کرتے ۵؎ اور جب فجر طلوع ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتے(مسلم)ابوداؤد نے یہ بڑھایا کہ پھر جاتے لوگوں کو فجر پڑھاتے۔

 



Total Pages: 519

Go To