Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1131 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا صلى أحدكُم النَّاس فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ. وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے ہلکی کرے کہ ان میں بیمار اور کمزور اور بڈھے ہیں اور جب اکیلے پڑھے تو جتنی چاہے دراز کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ لیکن اب عوام اماموں کا حال برعکس ہے کہ اکیلی نماز مختصر پڑھتے ہیں اور جماعت کی نماز طویل خدا ہدایت دے۔

1132 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ: فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِير وَذَا الْحَاجة "

روایت ہے حضرت قیس ابن حازم سے فرماتے ہیں کہ مجھے ابو مسعود نے خبر دی کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ خدا کی قسم میں فلاں کی وجہ سے نماز فجر سے پیچھے رہتا ہوں کیونکہ وہ دراز بہت کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن سے زیادہ کسی وعظ میں غضب ناک نہ دیکھا پھر فرمایا کہ تم میں سے بعض نفرت والے ہیں جو کوئی بھی لوگوں کو نماز پڑھائے وہ مختصر کرے کیونکہ ان میں کمزور بوڑھے اور کام کاج والے ہیں ۱؎(مسلم، بخاری)

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ امام کے قصور کی بنا پر اگر کوئی شخص جماعت چھوڑ دے تو گنہگار وہ نہیں ہے بلکہ امام،نیز حاکم یا بزرگ کے سامنے امام کی شکایت کردینا جائز ہے،نہ یہ غیبت ہے اور نہ امام کی سرتابی،نیز حاکم مقتدیوں کے سامنے امام پر سختی بھی کرسکتا ہے اور ملامت بھی، اس میں ا س کی اصلاح ہے نہ کہ ذلیل کرنا۔درازی ٔ نماز اگرچہ عبادت ہے مگر جب کہ اس سے کوئی خرابی نہ پیدا ہو۔

1133 -[5]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُصَلُّونَ لَكُمْ فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ».رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تمہیں امام نماز پڑھایا کریں گے اگر درستی کریں تو تمہارے لیئے مفید ہے اور اگر خطا کریں تو تمہارے لیئے مفید ان کے لیئے مضر ۱؎(بخاری)

۱؎ یعنی اگر ایسی غلطی کریں جس کی تمہیں خبر نہ ہو تو تم معذور وہ مجرم لیکن اگر تمہیں پتہ چل جائے تو تم پر نماز کا اعادہ وغیرہ واجب ہے۔چنانچہ اگر معلوم ہوجائے کہ امام بے دین یا بے وضو یا بے غسل تھا یا اس کے کپڑے میں نجاست لگی تھی تو سب پر نماز لوٹانا واجب ہے۔چنانچہ امام محمد نے کتاب الاثار میں باسناد صحیح روایت کی "عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ابْنِ یَزِیْدٍ مَکِّیٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ " کہ آپ نے فرمایا جو جنابت میں نماز پڑھائے تو امام و مقتدی دونوں نماز لوٹائیں،نیز عبدالرزاق نے حضرت جعفر سے روایت کی کہ ایک دفعہ حضرت علی  نے جنابت میں نماز پڑھا دی تو آپ نے خود بھی نماز لوٹائی اور مقتدیوں کو بھی لوٹانے کا حکم دیا،نیز عبدالرزاق نے ابو امامہ سے روایت کی کہ ایک بار حضرت عمر نے جنابت میں نماز پڑھادی تو آپ نے نماز لوٹائی مقتدیوں نے نہ لوٹائی علی مرتضٰی کو پتہ چلا تو آپ نے فاروق اعظم سے فرمایا کہ سب کو نماز لوٹانی چاہئیے تھی حضرت ابن مسعود نے آپ کی تائید کی تب عمر فاروق نے رجوع کیا اور سب کی نماز لوٹائی،نیز سارے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر امام بغیر تکبیر تحریمہ نماز پڑھائے تو کسی کی نماز نہیں ہوتی اور ظاہر ہے کہ جنبی بے وضو اور نجس کپڑے والے کی تحریمہ ہی صحیح نہیں لہذا ان کی نمازیں بغیرتحریمہ ہیں۔بہرحال یہ حدیث نہ وہابیوں کی دلیل ہے نہ حنفیوں کے خلاف۔

نوٹ: اس حدیث کی بنا پر وہابی کہتے ہیں کہ امام کی نماز کے بطلان سے مقتدی پر کوئی اثر نہیں پڑتا مگر یہ غلط ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To