$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب ما علی الامام

باب امام پر کیا چیزیں ہیں   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی امام پر مقتدیوں کے کیا کیا حقوق ہیں۔

1129 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ صَلَاةً مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَانَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أمه

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے امام کے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھی جس کی نماز حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے ہلکی اور زیادہ پوری ہو ۱؎ آپ بچے کے ر ونے کی آواز سنتے تو ہلکی کردیتے اس خوف سے کہ اس کی ماں گھبرا جائے گی ۲؎(مسلم، بخاری)

۱؎ یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کی جماعت کی نماز  دراز نہ ہوتی تھی اس کے باوجود کوئی مستحب تک نہیں چھوٹتا تھا ۔خیال رہے کہ ہلکی نماز سے یہ مراد نہیں کہ سنتیں چھوڑ دیں یا اچھی طرح ادا نہ کریں بلکہ مراد یہ ہے کہ نماز کے ارکان دراز نہ کرے بقدر کفایت ادا کرے جیسے رکوع سجدے کی تسبیحیں تین بار کہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کتنی ہی لمبی قرأت کرتے مگر مقتدیوں کو ہلکی ہی معلوم ہوتی تھی لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں۔

۲؎ چونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے عورتیں بھی نماز پڑھتی تھیں جو اپنے بچوں کو گھر سلاکر آتی تھیں،جب گھروں سے ان کے رونے کی آواز آتی تو سرکار ان کی ماؤں کے خیال سے نماز ہلکی کرتے۔

1130 -[2]

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وجد أمه من بكائه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم  نے کہ میں نماز شروع کرتا ہوں اور اسے دراز کرنا چاہتا ہوں کہ بچے کی رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز میں اختصار کرتا ہوں کیونکہ اس کے رونے سے اس کی ماں کی سخت گھبراہٹ جان لیتا ہوں ۱؎(بخاری)

۱؎ اس سے دو مسئلے معلو م ہوئے:ایک یہ کہ نمازی کا باہر کی آواز سن لینا اور ا س کا لحاظ کرنا خشوع نماز کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ نماز میں غیر معین مقتدی کی رعایت کرنا درست ہے جیسے بعض صورتوں میں مقتدیوں کی وجہ سے نماز ہلکی کی جاسکتی ہے،ایسے ہی رکوع میں ملنے والوں یا وضو کرنے والوں کی وجہ سے نماز دراز کی جاسکتی ہے،کسی معین شخص کی نماز میں رعایت کرنا حرام بلکہ شرک خفی ہے۔یہ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے کہ صدیق اکبر بحالت نماز آپ کو دیکھ کر مقتدی بن جاتے تھے۔

1131 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا صلى أحدكُم النَّاس فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ. وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے ہلکی کرے کہ ان میں بیمار اور کمزور اور بڈھے ہیں اور جب اکیلے پڑھے تو جتنی چاہے دراز کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html