Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1118 -[2]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فليؤمهم أحدهم وأحقهم بِالْإِمَامِ أَقْرَؤُهُمْ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ فِي بَابٍ بَعْدَ بَابِ «فَضْلِ الْأَذَانِ»

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جب تین آدمی ہوں تو ان میں ایک امام بن جائے ان میں امامت کا زیادہ حقدار قاری ہے ۱؎(مسلم)اور مالک ابن حویرث کی حدیث فضل اذان کے بعد والے باب میں بیان ہوگی۲؎

۱؎ یعنی اگرچہ قاری عالم کا امام بننا افضل ہے لیکن اگر ان کے سوا کوئی اور بھی امام بن گیا تو نماز ہوجائے گی۔اس سے معلوم ہوا کہ افضل کے ہوتے مفضول کا امام بننا جائز ہے۔اس جگہ مرقاۃ نے فرمایا کہ اگرچہ مفضول امام بن جائے مگر افضل پیچھے رہ کر بھی اس سے افضل ہے،دیکھو بلال جنت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے آگے جائیں گے مگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہو کر۔

۲؎ اس میں یہ ذکر تھا کہ تم میں اذان کوئی کہہ دے مگر امامت بہتر آدمی کرے،وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی میں نے وہاں بیان کی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1119 -[3]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ وليؤمكم قراؤكم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اذان بہترین لوگ دیں اور تمہاری امامت قاری لوگ کریں ۱؎(ابوداؤد)

۱؎  یعنی مؤذن متقی پرہیزگار اور نماز کے اوقات جاننے والا چاہیے کیونکہ لوگوں کی نمازیں،افطار،سحریاں کھانا پینا اس کی اذان سے وابستہ ہیں، نیز یہ اکثر اذان کے لیے اوپر چڑھتا ہے جس سے کبھی لوگوں کے گھروں میں نظر پڑ جاتی ہے۔خیال رہے کہ مؤذن میں عالم ہونے کی قید نہیں کیونکہ مؤذن دوسرے کے علم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر امام دوران نماز میں دوسرے کے علم سے استفادہ نہیں کرسکتا، دیکھو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے لیے حضرت بلال کو منتخب فرمایا حالانکہ علماءصحابہ موجود تھے۔

1120 -[4]

وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بن الْحُوَيْرِث يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ: فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمَ فَصْلُهُ. قَالَ لَنَا قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ زار قوما فَلَا يؤمهم وليؤمهم رجل مِنْهُم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُ اقْتَصَرَ عَلَى لَفْظِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم

روایت ہے حضرت ابو عطیہ عقیلی سے فرماتے ہیں کہ مالک ابن حویرث ۱؎ ہمارے پاس ہماری مسجد میں آتے اور بات چیت کیا کرتے تھے ایک دن نماز کا وقت آگیا ابو عطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے کہا آگے بڑھیے نماز پڑھائیے وہ بولے کہ تم اپنے کسی آدمی کو آگے بڑھاؤ جو تمہیں نماز پڑھائے اور میں بتاؤں گا کہ میں نماز کیوں نہیں پڑھاتا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کسی قوم کی ملاقات کو جائے وہ ان کی امامت نہ کرے ان کی امامت انہیں میں کا کوئی کرے ۲؎ (ابوداؤد، ترمذی،نسائی)مگر نسائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ پر کفایت کی۔

 



Total Pages: 519

Go To