$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۴؎ بلکہ منبر بھی اسی لیے بنایا گیا اگر تَعَلَّم لام کی شد سے ہو تو معنی ہوں گے تم نماز سیکھ لو،غالب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کی تیسری سیڑھی پر نماز پڑھی،پھر رکوع کے بعد مسلسل تین قدم سے اترے مصلے پر پہنچے، پھر سجدہ کے بعد مسلسل قدموں سے منبر پر پہنچے، ہمارے واسطے یہ اعمال مفسد نماز ہیں،لہذا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے۔

1114 -[9]

وَعَنْ عَائِشَةَ رِضَى اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِهِ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے حجرے میں نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے آپ کی اقتداء کررہے تھے ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ یہ نماز تراویح تھی اور حجرہ چٹائی کا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کے لیے اپنے پاس چٹائی کھڑی کرلی تھی،عائشہ صدیقہ کا حجرہ مراد نہیں کیونکہ اس میں رہتے ہوئے لوگ آپ کی اقتداء نہیں کرسکتے تھے  کیونکہ  آپ کسی کو نظر نہ آتے۔خیال رہے کہ اب بھی اگر چٹائی اتنی چھوٹی ہو کہ کھڑے ہونے پر مقتدیوں کو امام نظر آسکے تو اس کے پیچھے نماز جائز ہے، بعض شارحین نے سمجھا کہ یہ مرض وفات شریف کی نماز ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ کے حجرے سے نماز پڑھائی ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ اس زمانہ میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ امام رہے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم دوران جماعت میں دو آدمیوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر باہر تشریف لائے لہذا اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ امام حجرے میں رہ کر مسجد کے نمازیوں کو پڑھائے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1115 -[10]

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَفَّ الرِّجَالَ وَصَفَّ خَلْفَهُمُ الْغِلْمَانَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ فَذَكَرَ صَلَاتَهُ ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا صَلَاة» قَالَ عبد العلى: لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ: أُمَّتِي ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے کہ  آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں فرمایا نماز کی تکبیر کہی اور مردوں کی صف بنائی ان کے پیچھے بچوں کی صف پھر انہیں نماز پڑھائی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا ۱؎ پھر فرمایا نماز اس طرح ہے،عبدالاعلی کہتے ہیں مجھے یہ ہی خیال ہے کہ فرمایا میری امت کی نماز ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی اول سے آخر تک نماز کی ساری کیفیت بیان فرمائی، راوی نے یہاں اختصارًا ذکر نہ کیا۔

 ۲؎ یعنی تا قیامت میری امت کی نماز ایسی ہی ہونی چاہیے کہ مردوں کی صف آگے ہو اور بچوں کے پیچھے۔

1116 -[11]

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ فَجَبَذَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَبْذَةً فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي فَوَاللَّهِ مَا عَقَلْتُ صَلَاتِي. فَلَمَّا انْصَرَفَ إِذَا هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ: يَا فَتَى لَا يَسُوءُكَ اللَّهُ إِنَّ هَذَا عُهِدَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا أَنْ نَلِيَهُ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ: هَلَكَ أَهْلُ الْعُقَدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا عَلَيْهِمْ آسَى وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ أَضَلُّوا. قُلْتُ يَا أَبَا يَعْقُوبَ مَا تَعْنِي بِأَهْلِ العقد؟ قَالَ: الْأُمَرَاء. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضر ت قیس ابن عباد سے ۱؎ فرماتے ہیں اس حال میں کہ میں مسجد میں پہلی صف میں تھا کہ مجھے پیچھے سے کسی نے کھینچا مجھے ہٹادیا اور میری جگہ خود کھڑا ہوگیا خدا کی قسم مجھے اپنی نماز کی خبر نہ رہی ۲؎ جب فارغ ہوئے وہ ابی ابن کعب تھے فرمایا اے جوان اﷲ تمہیں کبھی غمگین نہ کرے یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم سے عہد ہے کہ  آپ سے قریب رہیں ۳؎ پھر آپ قبلہ رو ہوئے اور فرمایا رب کعبہ کی قسم حکومتوں والے ہلاک ہوگئے تین بار کہا پھر فرمایا خدا کی قسم ان پر غم نہیں کرتا لیکن غم ان پر کرتا ہوں جنہوں نے انہیں بہکایا میں نے کہا اے ابو یعقوب عقد والوں سے آپ کی کیا مراد ہے فرمایا امیر لوگ ۴؎(نسائی)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html