Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎  پہلی صف والوں پر عمومی رحمت تھی اور داہنی صف والوں پر خصوصی رحمت ہے،پھر صف اول کے داہنے والوں پر اور زیادہ خاص رحمت ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں رب کی رحمتیں لاکھوں قسم کی ہیں۔خیال رہے کہ داہنی صف پر رحمت اس وقت آئے گی جب بائیں طرف بھی نمازی برابر ہوں اگر سارے نمازی داہنی طرف ہی کھڑے ہوجائیں بائیں طرف کوئی نہ ہو یا تھوڑے ہوں تو یہ داہنے والے ناراضی الٰہی  کے مستحق ہوں گے۔

1097 -[13]

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ فَإِذَا اسَتْوَيْنَا كَبَّرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں کہ جب ہم نماز میں کھڑے ہوتے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  ہماری صفیں سیدھی کرتے جب ہم سیدھے ہوجاتے تو تکبیر کہتے ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ سنت یہ ہے کہ امام پہلے صفیں سیدھی کرے پھر تکبیر تحریمہ کہے،آج کل امام مساجد یہ عمل چھوڑ بلکہ مقتدیوں کو چاہیئے کہ اول ہی سے صف میں مل کر اور سیدھے بیٹھیں تاکہ "حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ" پر کھڑے ہو کر اقامت ختم ہونے پر نماز بے تکلف شروع کرسکیں۔خیال رہے کہ یہاں تکبیر سے تکبیر تحریمہ مراد ہے نہ کہ اقامت وہ تو مقتدیوں کے بیٹھے ہوگی۔

1098 -[14]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَنْ يَمِينِهِ: «اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ» . وَعَنْ يَسَارِهِ: «اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم داہنی جانب فرماتے درست رہو صفیں سیدھی کرو اور بائیں طرف فرماتے درست رہو صفیں سیدھی کرو ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اولًا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نمازیوں کو صف میں ہاتھ سے سیدھا کرتے تھے پھر جب لوگ کچھ سمجھ گئے تو زبان سے فرمادیا کرتے تھے، پھر جب پورے واقف ہوگئے تو لوگ خود بخود اول ہی سے سیدھے ہوجاتے،یہاں دوسرے عمل کا ذکر ہے۔

1099 -[15]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلَاة».رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں سے بہتر وہ ہے جو نماز میں نرم کندھے والا ہو ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ اس طرح کہ اگر کوئی شخص ضرورۃً ایک نمازی کو آگے پیچھے ہٹائے تو بے تامّل ہٹ جائے یا اگر کوئی اسے نماز میں سیدھا کرے تو سیدھا ہوجائے یا اگر کوئی صف کی کشادگی بند کرنے کے لیے درمیان میں آکر کھڑا ہونا چاہے تو یہ کھڑا ہوجانے دے، بعض شارحین نے فرمایا کہ نرم کندھے سے عجز و انکسار، خشوع و خضوع مراد ہے مگر پہلے معانی زیادہ قوی ہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1100 -[16]

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «اسْتَووا اسْتَوُوا اسْتَوُوا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ من خَلْفي كَمَا أَرَاكُم من بَين يَدي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ سیدھے رہوسیدھے رہو سیدھے رہو ۱؎  اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ میں تم کو اپنے پیچھے سے ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے تمہیں اپنے آگے سے دیکھتا ہوں ۲؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To