Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎  یہ ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا عدل و انصاف کہ باوجودیکہ بڑی عالمہ فقیہہ ہیں مگر فرمادیا کہ اس مسئلہ کا علم مجھ سے زیادہ حضرت ام سلمہ کو ہےکیونکہ وہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھ چکی ہیں میں نہ پوچھ سکی۔اس سے معلوم ہوا کہ بڑا عالم بھی بے علم فتویٰ نہ دے بلکہ دوسرے کے پاس بھیج دے اور اس میں شرم نہ کرے۱۲

۴؎ یہ حضرت کریب کا ادب خادمانہ ہے کہ بغیر آقا کے حکم کے دوسری جگہ نہیں گئے کیونکہ پہلا حکم ختم ہوچکا تھا۱۲

۵؎  یعنی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اور کسی بیوی پاک کے گھر میں یہ نفل پڑھتے دیکھا پھر جب میرے گھر میں تشریف لائے تو جس گوشہ میں سرکار علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھے تھے وہاں میں خود نہ گئی بلکہ کسی لڑکی کو بھیجا۔لہذا یہ روایت در روایت ہوگئی۔

۶؎ ابو امیہ حضرت ام سلمہ کے والد کی کنیت ہے،ان کا نام سہل ابن مغیرہ مخزومی تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑی کی معرفت خود حضرت ام سلمہ سے خطاب فرمایا کیونکہ اصل سائلہ آپ ہی تھیں(رضی اللہ تعالٰی عنہما)۔

۷؎ یعنی ایک بار ہم وفد عبدالقیس کو تبلیغ کرنے کی وجہ سے ظہر کی دو رکعتیں نہ پڑھ سکے تھے،پھر وہ رکعتیں عصر کے بعد قضا کیں لیکن طریقہ ہمارا یہ ہے کہ جب کوئی نیکی ایک بار کرلیتے ہیں تو پھر ہمیشہ ہی کرتے ہیں،اس لیے اب ہمیشہ ہی پڑھ رہے ہیں۔خیال رہے کہ سنت ظہر کی قضاء کرنا بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے،پھر بعد عصر پڑھنا اور پھر ہمیشہ پڑھنا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیتیں ہی ہیں اس میں اس سے منع کیا گیا ہے،جیسے روزۂ وصال کہ آپ رکھتے تھے ہمیں منع فرمایا،چنانچہ طحاوی نے اس حدیث کے ساتھ یہ بھی ذکر کیا کہ ام سلمہ نے عرض کیا یارسو ل اﷲ ہم بھی قضا کرلیا کریں فرمایا نہیں۔شوافع نے اس حدیث کی وجہ سے فرمایا کہ سنتوں کی قضاء سنت ہے مگر یہ دلیل کمزور ہے ورنہ انہیں چاہیئے کہ ایک بار کی قضا ہمیشہ پڑھا کریں۱۲ 

الفصل الثانی

دوسری فصل

1044 -[6]

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرو قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاة الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ»فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ. فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ وَقَالَ: إِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ مُحَمَّدَ بن إِبْرَاهِيم يسمع لَمْ يَسْمَعْ مِنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو. وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَنُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ قَيْسِ بْنِ قهد نَحوه

روایت ہے حضرت محمد ابن ابراہیم سے وہ قیس ابن عمرو سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو فجر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا صبح کی نماز دو دو رکعتیں پڑھتے ہو ۲؎ اس نے عرض کیا کہ میں نے پہلی دو رکعتیں نہ پڑھیں تھیں وہ اب پڑھ لیں تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے ۳؎(ابوداؤد)اور ترمذی نے اس کی مثل روایت کی اور فرمایا کہ اس کی اسناد متصل نہیں ہے کیونکہ محمد ابن ابراہیم نے قیس ابن عمرو سے نہ سنا ۴؎  اور شرح سنہ اور مصابیح کے نسخوں میں قیس ابن قہد سے اس کی مثل سے۔

۱؎ حضرت محمد ابن ابراہیم بہت نوعمر تابعی ہیں اور قیس ابن عمرو صحابی انصاری ہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To