Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

بھی بہتر ہے"سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنۡ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوۡلًا"،رب تعالٰی فرماتا ہے:"یَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذْقَانِ سُجَّدًا وَّ یَقُوۡلُوۡنَ سُبْحٰنَ"الخ۔

1036 -[14]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ وَأَنَا نَائِمٌ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَةً ثُمَّ سَجَدَ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ مِثْلَ مَا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ۱؎ عرض کیا یارسول اﷲ میں نے آج رات سوتے ہوئے اپنے کو دیکھا کہ گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں میں نے سجدہ کیا ۲؎ میرے سجدے کے ساتھ درخت نے بھی سجدہ کیا میں نے اسے یہ کہتے ہوئے سنا ۳؎  الٰہی  اس سجدے کی برکت سے اپنے پاس میرے لیے ثواب لکھ اور میرا گناہ دور کر اور اسے میرے لیے اپنے ہاں ذخیرہ بنا ۴؎ اور اسے مجھ سے ایسا ہی قبول کر جیسے اپنے بندے داؤد سے قبول کیا تھا،ابن عباس فرماتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کی آیت پڑھی ۵؎ پھر سجدہ کیا تو میں نے آپ کو اسی طرح کہتے سنا جیسے اس شخص نے درخت کے قول کی خبر دی تھی۶؎(ترمذی،ابن ماجہ)مگر ابن ماجہ نے وتقبلھا الخ  کا ذکر نہ کیا ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ یہ آنے والے حضرات ابوسعید خدری ضی اللہ عنہ تھے جیسا کہ بعض روایتوں میں صراحتًا ہے نہ کہ کوئی فرشتہ۱۲

۲؎ سجدۂ تلاوت اس طرح کہ نماز میں سورۂ ص پڑھی اور سجدہ کی آیت پر سجدہ کیا جیسا کہ اگلی عبارت سے معلوم ہورہا ہے۱۲

۳؎  ظاہر یہ ہے کہ یہ قول خود درخت ہی کا ہے کیونکہ درخت وغیرہ سجدے بھی کرتے ہیں اور تسبیح بھی،ممکن ہے کسی فرشتے کا قول ہو جو درخت سے ظاہر ہو رہا ہو،جیسے طور پر موسیٰ علیہ السلام نے درخت سے رب کا کلام سنا،اول قوی ہے۔

۴؎  درخت کا یہ کہنا ان صحابی کو اور ان کے ذریعہ سارے مسلمانوں کو تعلیم دینے کے لیے ہے ورنہ ان کے لیے نہ ثواب ہے نہ گناہ کی بخشش کیونکہ وہ گنہگار ہی نہیں۱۲

۵؎ سورۂ ص کی۔ظاہر یہ ہے کہ صرف آیت سجدہ ہی نماز سے خارج پڑھی۔اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ دوران تلاوت میں سجدے کی آیت تلاوت کرکے سجدہ کرنا بلاکراہت جائز ہے۱۲

۶؎  علماء فرماتے ہیں کہ ص کے سجدے میں یہ دعا پڑھنا بہت بہتر ہے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ حضور انور نے اس خواب کی تعبیر یہ دی کہ وہ درخت ہم ہیں اور صحابی سے مراد ساری امت اس لیے خود سجدہ کرکے اس میں یہ دعا پڑھ کے دکھادیا۱۲

۷؎ مگر حاکم نے اسے صحیح کہا اور دیگر محدثین نے حسن فرمایا اور یہ معلوم رہے کہ غرابت صحت کے خلاف نہیں اور اگر ضعیف بھی ہو تو فضائل اعمال میں قبول ہے۱۲

 



Total Pages: 519

Go To